واشنگٹن ۔ 17 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان خطہ میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور خطہ میں پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمہ کےلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے، مسئلہ کشمیر کے حل تک امریکہ اور پاکستان کا ”پرامن جنوبی ایشیائ“ کا خواب شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو سکتا، پاکستان خلوص_نیت کے ساتھ ”افغان امن عمل“ کی …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی امریکی ہم منصب مائیک پمپیو سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
واشنگٹن ۔ 17 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان خطہ میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور خطہ میں پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمہ کےلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے، مسئلہ کشمیر کے حل تک امریکہ اور پاکستان کا ”پرامن جنوبی ایشیائ“ کا خواب شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو سکتا، پاکستان خلوص_نیت کے ساتھ ”افغان امن عمل“ کی اس مشترکہ ذمہ داری کو نبھا رہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعہ کو سٹیٹ آفس واشنگٹن میں امریکی ہم منصب مائیک پمپیو سے ملاقات کے دوران دوطرفہ پاک امریکہ تعلقات، اہم علاقائی و باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی اور خطہ میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے حالیہ دورہ ایران و سعودی عرب کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات سے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان خطہ میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور خطہ میں پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمہ کےلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے گزشتہ پانچ ماہ سے 80 لاکھ کشمیریوں کو کرفیو کے ذریعے محصور کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ذرائع مواصلات پر تاحال پابندی عائد ہے تاکہ اصل حقائق کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا جائے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کا ”پرامن جنوبی ایشیائ“ کا خواب اس وقت تک شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور 80 لاکھ کشمیریوں کے استصواب رائے سے حل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ کاوشوں سے 40 سالہ طویل محاذ آرائی کے بعد سیاسی حل کے ذریعے ”امن کی نوید سنائی دے رہی ہے۔ پاکستان خلوص_نیت کے ساتھ ”افغان امن عمل“ کی اس مشترکہ ذمہ داری کو نبھا رہا ہے۔ تاریخی اعتبار سے جنوبی ایشیائی خطہ میں قیام امن کیلئے پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ کاوشیں ہمیشہ سود مند ثابت ہوئی ہیں اور دونوں ممالک کیلئے یکساں مفید رہی ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے جامع دوطرفہ پاک۔امریکہ تعلقات کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کےلئے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ”افغانستان کے سیاسی تصفیہ ”افغان امن عمل“ اور پرامن ہمسائیگی کیلئے پاکستان کی مخلصانہ، مصالحانہ کاوشوں کو سراہا۔








