وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی دفتر خارجہ میں وزیر اعظم عمران خان کو ملکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بریفنگ کے بعد پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں تعطل تھا اور ہے،دونوں ملکوں کے مابین تصفیہ طلب معاملات کو حل کرنے کیلئے مذاکرات ہی واحد آپشن ہے‘ وزیر اعظم واضح کر چکے ہیں کہ بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھائیں گے‘ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی‘کشمیر بنیادی تنازعہ ہے اور رہیگا‘ بین الاقوامی …

اسلام آباد ۔ 24 اگست (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں تعطل تھا اور ہے،دونوں ملکوں کے مابین تصفیہ طلب معاملات کو حل کرنے کیلئے مذاکرات ہی واحد آپشن ہے‘ وزیر اعظم واضح کر چکے ہیں کہ بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھائیں گے‘ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی‘کشمیر بنیادی تنازعہ ہے اور رہیگا‘ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی موثر ترجمانی کی جائیگی، پاکستان کے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں‘ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے‘ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے ہر ممکن کوششیں کرینگے،ہم یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے‘ وزیراعظم عمران احمد خان نیازی اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے امریکی دفتر خارجہ کا بیان حقیقت کے برعکس ہے‘ خارجہ پالیسی فرنٹ پر پاکستان کا رویہ معذرت خواہانہ نہیں ہوگا، ہم اپنے مفادات کا تحفظ کرینگے‘ علاقائی امن پاکستانی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔جمعہ کو دفتر خارجہ میں وزیر اعظم عمران خان کو ملکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بریفنگ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی خواہش اور ہماری آرزو تھی کہ انہیں ملکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے عمومی جائزہ پیش کیا جائے۔