وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 8 اکتوبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جس کیس میں شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا اس میں پی ٹی آئی کا کوئی کردار نہیں ہے، سینٹ کے اجلاس میں ان کی گرفتاری پر اپنا موقف پیش کیا ہے، بدقسمتی سے احتساب کو اب سیاسی انتقام کا رنگ دیا جا رہا ہے، ملک میں احتساب پر بات ہونی چاہیے، ہندوستان …

اسلام آباد ۔ 8 اکتوبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جس کیس میں شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا اس میں پی ٹی آئی کا کوئی کردار نہیں ہے، سینٹ کے اجلاس میں ان کی گرفتاری پر اپنا موقف پیش کیا ہے، بدقسمتی سے احتساب کو اب سیاسی انتقام کا رنگ دیا جا رہا ہے، ملک میں احتساب پر بات ہونی چاہیے، ہندوستان ہمیشہ مذاکرات سے بھاگتا ہے۔ پیر کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ جس کیس میں شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا اس میں پی ٹی آئی کا کوئی کردار نہیں ہے، شہباز شریف کے خلاف کیس ہم نے نہیں بنایا، ماضی میں اداروں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا، پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر بات کی جائے، اس کیس کے دونوں رخ عوام اور میڈیا کے سامنے جانے چاہئیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں احتساب پر بات ہونی چاہیے، اپوزیشن کو حکومت کا نکتہ نظر بھی سننا چاہیے، بھارت ہمیشہ مذاکرات سے کتراتا ہے، بی جے پی کو اگلا الیکشن دکھائی دے رہا ہے، دنیا کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ نے مذاکرات کی پیش رفت کو سراہا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ زلمے خلیل زاد امریکی وفد کے ہمراہ آئے تھے، ہم دوبارہ ان کو ویلکم کریں گے، ان کے نکتہ نظر سنیں گے، افغانستان کے ساتھ معاملات سترہ سال کی کہانی ہے، گاہے بگائے حکمت عملی بنتی اور تبدیل ہوتی رہی، اوباما انتظامیہ اور امریکی صدر ٹرمپ نے بھی افغان معاملات پر حکمت عملی پر نظرثانی کی، ہمارے مذاکرات کے موقف کو سراہا گیا، دنیا مان گئی کہ افغانستان کے معاملے کا حل مذاکرات میں ہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میرے دورے کے حوالے سے اپوزیشن کو تنقید کا پہلو ڈھونڈتے ہوئے دقت ہو رہی ہے، چاہے کشمیر کی بات ہو گی یا گستاخانہ خاکوں کی بات ، ہم نے ملک کا موقف بھرپور طریقے سے پیش کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جس زبان کو پاکستان کی عوام سمجھتے ہیں اس میں اپنا موقف پیش کیا ہے، میں نے امریکہ کو بتایا ہے کہ ہندوستان دوغلے معیار کا عملی نمونہ پیش کر رہا ہے، بھارت اور روس کے معاہدے سے قبل یہ بات میں نے امریکہ تک پہنچائی۔