اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کی وبا کے عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہے اور بھارت ان مشکل حالات میں کشمیریوں کو سہولت دینے کی بجائے وہاں ڈومیسائل قوانین میں تبدیلیاں کر رہا ہے۔بھارت کا یہ اقدام ، سیٹیزن ترمیمی ایکٹ کی طرح ایک انتہائی متنازعہ اقدام ہے۔ جمعہ کو حالیہ …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا وڈیو پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کی وبا کے عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہے اور بھارت ان مشکل حالات میں کشمیریوں کو سہولت دینے کی بجائے وہاں ڈومیسائل قوانین میں تبدیلیاں کر رہا ہے۔بھارت کا یہ اقدام ، سیٹیزن ترمیمی ایکٹ کی طرح ایک انتہائی متنازعہ اقدام ہے۔ جمعہ کو حالیہ بھارتی اقدام کے حوالے سے اہم وڈیو بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ جب دنیا کی توجہ کرونا وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے کی طرف ہے بھارت اس آڑ میں ایسے اقدامات اٹھا رہا ہے جو بلا جواز ہیں۔اس وقت پوری کشمیری قیادت اور ہزاروں کی تعداد میں کشمیری نوجوان بھارتی جیلوں میں نظر بند ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت ان مشکل حالات میں کشمیریوں کو سہولت دینے کی بجائے، انہیں خوراک اور ادویات کی فراہمی کی بجائے وہاں ڈومیسائل قوانین میں تبدیلیاں کر رہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ڈومیسائل کے حصول کے قواعد میں تبدیلی دراصل ان کا آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کا ایجنڈا ہے جسے وہ پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔تمام کشمیری قیادت بشمول پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو بھی بھارت کے اس غیر قانونی، غیر آئینی اقدام سے مطلع کر دیا ہے اور انہیں اس کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے یقین دلایا ہے کہ وہ ان نئے قواعد کا مسودہ منگوا کر اس کا جائزہ لیں گے۔بھارت کا یہ اقدام، سیٹیزن ترمیمی ایکٹ کی طرح ایک انتہائی متنازعہ اقدام ہے جسے اگر نہ روکا گیا تو مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات مزید خراب ہونے کا قوی امکان ہے۔








