اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بشکیک میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ روزہ افطار کیا۔ یہاں موصول ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی جس بھی ملک میں قیام پذیر ہو ان کی فلاح و بہبود ہماری حکومت کاترجیحی ایجنڈا ہے، آپ کے بھیجے ہوئے زرمبادلہ …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی بشکیک میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ملاقات اور روزہ افطار کیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بشکیک میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ روزہ افطار کیا۔ یہاں موصول ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی جس بھی ملک میں قیام پذیر ہو ان کی فلاح و بہبود ہماری حکومت کاترجیحی ایجنڈا ہے، آپ کے بھیجے ہوئے زرمبادلہ سے معیشت کو استحکام ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تمام سفارت خانوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ پاکستانی کمیونٹی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں، میں انشاللہ جب دوبارہ ایس سی او سمٹ جو کہ اگلے ماہ متوقع ہے میں شرکت کیلئے آو¿ں گا تو یونیورسٹی آف سینٹرل ایشیا کا وزٹ کروں گا اور اسٹوڈنٹس سے ملوں گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے قازقستان اور کرغیزستان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ بھی اس مسئلے کو اٹھایا ہے کہ ہمیں سنٹرل ایشیا کے ساتھ روابط کے فروغ کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پچاس ممالک ایسے ہیں جن کیلئے ہم نے ویزہ آن ارائیول کی پالیسی اختیار کی ہے، 178 ممالک کو ہم ای ویزہ کی سہولت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ ملے اور لوگ چھٹیاں گزارنے کیلئے پاکستان آئیں، آزادانہ فارن پالیسی کیلئے ہمیں معاشی طور پر مستحکم ہونا ہوگا اس مقصد کے لیے ہم نے معاشی سفارت کاری کا آغاز کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سشما جی سے بھی ملاقات ہوئی انہیں گلا تھا کہ ہم کبھی کبھار کڑوا بولتے ہیں اور وہ مٹھائی لے کر آئی ہیں تاکہ ہم میٹھا بولیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں واضح کیا کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں اور وزیراعظم عمران خان نے تو پہلی تقریر میں کہا تھا کہ ہندوستان ایک قدم بڑھائے تو ہم دو بڑھائیں گے، ہم تو آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں اپنے تباہ شدہ اداروں کو بحال کرنا ہے اور ہم کریں گے لیکن اس پر وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان میں چھ ہزار سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جن میں زیادہ تعداد پاکستانی طلبا ءکی ہے، ہمیں پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے آپ کی ضرورت ہے، ہم انشاءاللہ ایک نئے پاکستان، نئے مائنڈ سیٹ کی بنیاد رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کو سپورٹ بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں نے اور نوجوانوں نے کیا، سیاسی پنڈت جو یہ کہہ رہے تھے کہ ہم الیکشن جیت ہی نہیں سکتے لیکن ہم نے حکومت خیبرپختونخوا میں بنائی، پنجاب میں بنائی، پاکستان میں بنائی اور انشاءاللہ سندھ میں بھی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے سفراءکو پیغام دیا ہے کہ اگر وہ محنت کریں گے تو میں بطور وزیر خارجہ ان کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ میں خواتین کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے ہماری پارٹی کا ساتھ دیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ پاکستانی طلباءکے ساتھ گھل مل گئے، طلباءنے وزیر خارجہ کے ساتھ سیلفیاں بنوائیں۔








