وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پانامہ لیکس کیس کے حوالے سے عدالتی فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے سپریم کور ٹ میں نظرثانی کی پٹیشن دائر کر دی اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پانامہ لیکس کیس کے حوالے سے عدالتی فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے سپریم کور ٹ میں نظرثانی کی پٹیشن دائر کر دی ہے۔ پیرکو ایڈووکیٹ شاہد حامد کے ذریعے دائر …
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پانامہ لیکس کیس کے حوالے سے عدالتی فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے سپریم کور ٹ میں نظرثانی کی پٹیشن دائر کر دی

مزید خبریں
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پانامہ لیکس کیس کے حوالے سے عدالتی فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے سپریم کور ٹ میں نظرثانی کی پٹیشن دائر کر دی
اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پانامہ لیکس کیس کے حوالے سے عدالتی فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے سپریم کور ٹ میں نظرثانی کی پٹیشن دائر کر دی ہے۔ پیرکو ایڈووکیٹ شاہد حامد کے ذریعے دائر نظرثانی کی درخواست میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، نیب، ایف بی آر، سیکرٹری قانون و انصاف ڈویژن اور سیکرٹری داخلہ کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعاکی گئی ہے کہ 28 جولائی 2017ءکے فیصلہ کو کالعدم قرار دیا جائے اور نظرثانی کی اس درخواست پر حتمی فیصلہ ہونے تک عدالتی فیصلہ پرعملدرآمد کے بارے میں حکم امتناعی جاری کیا جائے۔ یاد رہے کہ عدالت اپنے فیصلہ میں قومی احتساب بیورو (نیب )کو معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثے اور سرمایہ رکھنے پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے دائرکی گئی نظرثانی کی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ عدالت کی جانب سے 28 جولائی کا فیصلہ تمام ریکارڈ کا جائزہ لئے بغیر دیا گیا ہے، دوسری جانب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے بھی اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا، درخواست گزار کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے وکلاءکے دلائل کے دوران صرف تین جج صاحبان نے کیس کی سماعت کی جبکہ حتمی حکم نامہ پانچ ججوں نے جاری کیا ہے جن میں وہ دو جج صاحبان بھی شامل ہیں جنہوں نے جے آئی ٹی رپورٹ پر دلائل کی سماعت نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے اس سلسلے میں درخواست گزار کے اعتراضات پر کسی طرح کاغور کیا۔








