اسلام آباد ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی)وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد بیل آﺅٹ پروگرام کی شرائط کو حتمی شکل دینے کے لئے7نومبر کو پاکستان کا دورہ کرے گا،آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے ناقابل قبول شرائط رکھیں تو معاہدہ نہیں کریں گے،آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے دوست ممالک کے پاس گئے، سعودی عرب، چین اور متحدہ …
وزیر خزانہ اسد عمر کی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی)وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد بیل آﺅٹ پروگرام کی شرائط کو حتمی شکل دینے کے لئے7نومبر کو پاکستان کا دورہ کرے گا،آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے ناقابل قبول شرائط رکھیں تو معاہدہ نہیں کریں گے،آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے دوست ممالک کے پاس گئے، سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات نے مدد کے لیے کوئی ناقابل قبول شرائط نہیں رکھیں،میں نے حکومت میں آنے سے پہلے یا بعد میں کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات نہیں کی،چینی قرضوں پر آئی ایم ایف جانے کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ کا بیان 100فیصد غلط بیانی پر مشتمل ہے۔وزیر خزانہ اسد عمر نے یہاں وزارت خزانہ میںمیڈیا کے نمائندوںسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کوئی پہلی حکومت نہیں جو آئی ایم ایف کے پاس جا رہی ہے اور میں نے حکومت میں آنے سے پہلے یا بعد میں کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات نہیں کی۔ اس حوالے سے انہوں نے الیکٹرانک میڈیا پر اپنے پرانے بیانات بھی سنائے جن میں انہوں نے آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے بیل آ¶ٹ پیکج کی حمایت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت غیر ملکی زرمبادلہ کا مجموعی خسارہ 12ارب ڈالر ہے جسے آئی ایم ایف کے قرض سے پورا نہیں کیا جائے گا بلکہ حکومت اس کے لئے دیگر ذرائع بھی استعمال کرے گی۔








