وزیر خزانہ نے معاشی استحکام، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن بجٹ پیش کیا ، وفاقی وزیر مذہبی امور

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ نے معاشی استحکام، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن بجٹ پیش کیا ہے

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ نے معاشی استحکام، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن بجٹ پیش کیا ہے، پاکستان کے تمام علاقوں میں مساوی ترقی کیلئے چھوٹے انتظامی یونٹ بنائے جائیں، صوبائی حکومت ہزارہ پر توجہ نہیں دے رہی وہاں پر زلزلہ سے متاثرہ انفراسٹرکچر تاحال بحال نہیں ہو سکا، صوبے میں صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات ناپید ہیں،

وفاق سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے فنڈز میں ہزارے پر بھی توجہ دی جائے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 27 ۔ 2026 ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کیلئے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی وجہ سے دنیا بڑی تباہی سے بچ گئی اور دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا۔

انہوں نے حج 2026ء کی کامیابی پر سپیکر اور ارکان کی جانب سے سراہے جانے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے بہترین انتظامات کی وجہ سے اس سال 4 ایوارڈ ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے معاشی استحکام، ترقی اور فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن بجٹ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2005 کے زلزلے سے بالاکوٹ اور خاص طور پر مانسہرہ بری طرح متاثر ہوا تھا، اس سے قبل بھی مانسہرہ کے ادھورے منصوبوں کے حوالے سے کئی بار یہاں معاملہ اٹھایا، آج 21 سال ہو گئے ہیں ابھی تک زلزلے سے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کے منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔ پہلے وفاقی حکومت اس کی ذمہ دار تھی تاہم اب یہ بجٹ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، اس پر تحریک انصاف کے ہزارہ سے رکن نے بھی یہاں پر بات کی ہے۔

تحریک انصاف کی صوبے میں حکومت کو 14 سال ہو گئے ہیں تاہم بار بار یقین دہانیوں کے باوجود زلزلہ سے متاثرہ بالاکوٹ کے شہر میں آج بھی لوگ شیلٹرز میں رہ رہے ہیں، نیو بالا کوٹ سٹی تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ وہاں پر تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کے کئی منصوبے شروع کئے گئے تھے تاہم بعد میں آنے والی حکومتوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ وہاں پر ابھی تک سڑکیں نہیں بن سکیں، 13 سڑکیں ایسی تھیں جن کی تعمیر کا عوام کی جانب سے بار بار مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اور اس کی نشاندہی صوبائی حکومت سے بھی ہم کرتے رہے ہیں، اس ایوان میں یہ معاملہ اٹھانے پر پی ٹی آئی کے ایک رکن نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ وزیراعلیٰ کے پی سے بات کر کے آگاہ کریں گے تاہم اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انفراسٹرکچر کیلئے کوئی فنڈز نہ رکھے جانے پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔

وزیر مذہبی امور نے کہا کہ صحت کے شعبہ کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے یہ شعبہ صوبائی حکومت کے دائرہ کار میں آتا ہے، ہزارہ کے بڑے ہسپتالوں میں بھی ادویات نہیں ملتیں، دیہی علاقوں میں جہاں غریب لوگ مجبوری کی وجہ سے جاتے ہیں وہاں پر بھی انہیں صحت کی کوئی سہولیات میسر نہیں، تعلیم کے حوالے سے بھی پانچ لاکھ کی آبادی کیلئے کوئی کالج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا صوبہ میں ہمارے ساتھ سراسر ناانصافی ہو رہی ہے، حقائق یہ ہیں کہ تحریک انصاف کی ساڑھے تین سال کی وفاقی حکومت اور صوبے کی تیسری حکومت بھی کوئی تسلی بخش کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ این ایف سی ایوارڈ سے مناسب حصہ بھی صوبے کو مل رہا ہے، تربیلا ڈیم کی رائیلٹی بھی مل رہی ہے تاہم اس علاقے کی حالت تسلی بخش نہیں وہاں پر نہ سڑکیں ، نہ صحت کی سہولیات ہیں اس سے عوام میں مایوسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ہزارہ کے لوگ الگ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ صوبائی حکومت نے انہیں مایوس کیا ہے اور ان میں احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے تاہم چار سال میں تحصیل اور ویلج کونسل کے چیئرمینوں کو کوئی ترقیاتی فنڈز نہیں دیئے گئے۔

تحریک انصاف کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ احتساب کرتے ہیں تاہم انہوں نے اپنے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروا کر عوام کو اس کے ثمرات سے محروم رکھا ہے۔ اگر منتخب نمائندوں کو فنڈز دیئے جاتے تو عوام کی کسی حد تک داد رسی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ مانسہرہ شہر کی آبادی تین لاکھ کے قریب ہے تاہم انہیں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ پی ڈی ایم کے دور حکومت میں وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہماری حکومت نے اس کیلئے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی جس کیلئے سعودی عرب نے فنڈز فراہم کرنے تھے تاہم اس پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی یہ اٹھارہ ملین گیلن کا منصوبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے حلقوں میں قبرستانوں کیلئے جو فنڈز لئے وہ بھی ابھی تک روکے ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت سے اربوں روپے کے فنڈز لئے گئے تاہم وہاں پر پسماندگی اسی طرح ہے۔ متاثرین زلزلہ کیلئے نیوبالا کوٹ سٹی پر کام ادھورا ہے، اس کیلئے ملنے والے فنڈز بھی دوسرے منصوبوں پر خرچ کئے گئے ہیں،

اس پر وہاں کے لوگوں نے احتجاج بھی کیا۔ اس ناانصافی کا ازالہ کون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں ہزارے کے لوگوں کو بھی اس کا حق دیا جائے اس ناانصافی کا حل یہ ہے کہ ملک میں چھوٹے یونٹ بنائے جائیں تاکہ لوگوں کو ان کے حقوق مل سکیں اور یکساں ترقی ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی وسائل بھی وہاں پر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جا سکیں گے اس میں ہمارا مطالبہ صوبہ ہزارہ کا ہے جس پر صوبائی اسمبلی میں قرارداد بھی پاس کی گئی ہے۔ امید ہے کہ یہ اسمبلی اس مطالبے کی حمایت کرے گی۔

ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رائلٹی میں سے ہزارہ کو حصہ دیا جائے وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والے فنڈز میں ہزارہ پر بھی توجہ دی جائے تاکہ ہمارے علاقے کے لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔ 2005ء سے کھنڈرات بنی سڑکوں کی بہتری ہو سکے، 250 تباہ حال سکول ابھی تک نہیں بن سکے۔ اس کیلئے یہاں سے فنڈز بھی منتقل ہوئے ہیں تاہم صوبائی حکومت اس سے انکاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں عوام کی سہولت کیلئے ٹیکس میں مختلف شعبوں میں چھوٹ دی گئی ہے، ترقیاتی منصوبوں کیلئے بھی مناسب رقم رکھی گئی ہے۔