وزیر خزانہ کی زیر صدارت رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کی نمو میں معاونت اور کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے استحکام سے متعلق ورچوئل اجلاس

وزیر خزانہ کی زیر صدارت رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کی نمو میں معاونت اور کیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے استحکام سے متعلق ورچوئل اجلاس

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آر ای آئی ٹیز ) کی ترقی میں معاونت اور سہولت فراہم کرنے پر فوکس گروپ کے ورچوئل اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آر ای آئی ٹیز فریم ورک کے استحکام ، اقتصادی سرگرمیوں اور کیپٹل مارکیٹ کی ترقی میں معاونت کے فروغ کے اقدامات کا جئزہ لینے کیلئے سرکاری اور نجی شعبوں کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی۔ فنانس ڈویژن کے مطابق اجلاس کے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے، وفاقی وزیر خزانہ نے اسٹیک ہولڈرز کی فعال شمولیت کو سراہا اور پالیسی ڈائیلاگ میں تعاون کرنے میں کاروباری برادری، مالیاتی اداروں اور مارکیٹ کے شرکاء کے تعمیری کردار کو تسلیم کیا۔

انہوں نے مسلسل اور منظم مشاورت کی اہمیت پر زور دیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اصلاحات کی کوششیں مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق رہیں، عملی غور و فکر کی بنیاد اور وسیع تر اقتصادی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔اجلاس میں آر ای آئی ٹیز سیکٹر کی ترقی اور اسکیل ایبلٹی کے اہم شعبوں کا احاطہ کیا گیا۔ شرکاء نے ٹیکسیشن فریم ورک کو بہتر بنانے، آر ای آئی ٹی جاری کرنے والوں کی سہولت کے عمل میں بہتری اور سرمایہ کاروں کی شرکت کو بڑھانے کے لیے مجموعی طور پر مارکیٹ ایکو سسٹم اور خاص طور پر خوردہ حصوں کو مضبوط بنانے کا بھی جائزہ لیا ۔ اس موقع پر متوازن سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ پاکستان میں آر ای آئی ٹی مارکیٹ نے ابتدائی پیش رفت کی ہے تاہم اہداف ، پالیسی اقدامات اور بہتر ہم آہنگی کے ذریعے اپنی رسائی کو مزید وسعت دینے کی اہم صلاحیت ابھی باقی ہے۔

انہوں نے طریقہ کار کے مسائل کے خاتمہ ، ریگولیٹری تقاضوں میں وضاحت کو یقینی بنانا اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان صف بندی کے فروغ کو شعبہ کیلئے اہم قرار دیا ۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آر ای آئی ٹیز ریل اسٹیٹ کی سرمایہ کاری کو معیشت کے پیداواری شعبوں میں منتقل کرنے کے لیے ایک منظم اور شفاف طریقہ کار فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے دستاویزات کو فروغ دینے اور رئیل اسٹیٹ، تعمیرات اور ترقی کے شعبوں کو باضابطہ بنانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کی تقسیم اور اقتصادی سرگرمیوں کو بہتر بنانے میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔اسا موقع پر سرمایہ کاروں کی شرکت کو بڑھانے اور مارکیٹ کی گہرائی کو بہتر بنانے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔

اس موقع پر سرمایہ کاروں کی آگاہی میں اضافہ، آر ای آئی ٹی آلات پر اعتماد کے استحکام اور ثانوی مارکیٹ کے موثر کام کو یقینی بنانے، سرمایہ کاروں کے داخلے اور اخراج میں سہولت فراہم کرنے اور مارکیٹ کی ترقی کو برقرار رکھنے کو اہم حصوں کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان کے آر ای آئی ٹی فریم ورک کو بین الاقوامی طریقوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور د یتے ہوئے کہا گیا کہ سادگی، وضاحت اور عمل درآمد میں آسانی کو برقرار رکھا جائے ۔ شرکاء نے عملی اور اچھی طرح سے کیلیبریٹڈ اقدامات کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا جو غیر ضروری پیچیدگیوں کو شامل کیے بغیر مارکیٹ کی ترقی کو مؤثر طریقے سے معاونت فراہم کرتے ہیں۔وزیر خزانہ نے موجودہ ادارہ جاتی فریم ورک کے اندر قابل عمل اقدامات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک مربوط اور نتائج پر مبنی اصلاحی نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیا۔

اس سلسلے میں، متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، بشمول سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ، آر ای آئی ٹی جاری کنندگان، مارکیٹ کے شرکاء اور ٹیکس پالیسی آفس کو مخصوص ورک اسٹریم تفویض کیے گئے تاکہ وہ اپنے متعلقہ دائرہ کار اور بالخصوص ٹیکسیشن، ریگولیٹری عمل اور مارکیٹ کی ترقی کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیں۔اجلاس کا اختتام آگے بڑھنے کے راستے پر مشترکہ مفاہمت کے ساتھ ہوا ، جس میں اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل روابط اور مخصوص اقدامات کا بروقت فالو اپ شامل ہے۔

وزیر خزانہ نے با سہولت، شفاف اور پالیسی ماحول کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ، جدت طرازی کی حمایت اور پاکستان کی کیپٹل مارکیٹوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔اجلاس میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو عارف حبیب ، ندیم ریاض، چیف ایگزیکٹو، ڈولمین گروپ، علی جمیل چیف ایگزیکٹو، ٹی پی ایل کارپوریشن لمیٹڈ، پرائیویٹ سیکٹر کے دیگر شرکاء ، کمشنر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔