اسلام آباد۔2 اکتوبر(اے پی پی )وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ نیکٹا قانون میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے ازسر نو قانون کا جائزہ لیا جائے ، انتہا پسند اپنی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں، ایف آئی اے سائبر ونگ ایسی خبروں کے سدباب کیلئے موثر کارروائی کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیکٹا کے حوالے سے پیر کو ایک …
وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال کا نیکٹا کے حوالے منعقدہ اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔2 اکتوبر(اے پی پی )وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ نیکٹا قانون میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے ازسر نو قانون کا جائزہ لیا جائے ، انتہا پسند اپنی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں، ایف آئی اے سائبر ونگ ایسی خبروں کے سدباب کیلئے موثر کارروائی کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیکٹا کے حوالے سے پیر کو ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نیکٹا کے سپیشل کوآرڈینیٹر احسان غنی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف نیکٹا کو مزید فعال اور مضبوط بنانا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے نیکٹا قانون میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے حوالے سے جائزہ رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ فوری طور پر مربوط حکمت عملی مرتب کرے تاکہ انتہا پسندی کے خلاف موثر انداز میں بیانیہ تشکیل دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کے مابین باہمی روابط اور وسائل کو بروئے کار لانا کامیاب حکمت عملی کی ضمانت ہے۔ سوشل میڈیا پر انتہا پسندوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ انتہا پسند عناصر سوشل میڈیا کو اپنے پیغامات کی ترویج کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ اور مفروضوں پر مبنی خبریں ملک میں انتشار پھیلانے کا کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے اس طرح کی خبروں کے سدباب کیلئے ایف آئی اے کو متحرک کردار ادا کرنے کی ہدایات جاری کرتے کریمنل جسٹس لا پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے فعال کردار ادا کرنے کیلئے زور دیا۔








