وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے اجلاس میں امریکی پالیسی پر غور کیا گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ ٹویٹ ہمارے لیے باعث تشویش ہے۔ منگل کو ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے وزراءکے بیانات میں واضح فرق ہے۔ انہوں نے …

اسلام آباد ۔ 2 جنوری (اے پی پی) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے اجلاس میں امریکی پالیسی پر غور کیا گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ ٹویٹ ہمارے لیے باعث تشویش ہے۔ منگل کو ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے وزراءکے بیانات میں واضح فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو افغانستان میں شکست اور ہزیمت کا سامنا ہے اور وہ افغانستان میں اپنی اس ناکامی اور شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے لیکن ہم یہ بات پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد سے ہمارے بیانیے کو تقویت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج نے کامیاب آپریشن ضرب عضب کے ذریعے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فورسز کی موجودگی کے باوجود 43 فیصد افغانستان پر دہشت گردوں کا قبضہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہون نے کہا کہ اتحادی ممالک کے ساتھ دھمکی آمیز لہجے میں بات کرنا مناسب نہیں، انہوں نے کہا کہ امریکہ جس رقم کی بات کرتا ہے وہ اس نے ہمیں خیرات میں نہیں دی بلکہ اپنے مفاد کے تحفظ کے لیے دی، ہم نے افغانستان کی سرحد کے ساتھ اپنے قبائلی علاقوں میں جو آپریشنز کیے وہ ان کی قیمت تھی، امریکا نے تو پاکستان کو کسی قسم کی کوئی امداد نہیں دی۔

مزید خبریں

Leave a Reply