سندھ کے وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی کی زیر صدارت ڈائریکٹوریٹ آف اینیمل بریڈنگ میں اجلاس منعقد ہوا۔ پیر کو منعقدہ اجلاس میں محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر جنرل حزب اللہ بھٹو اور مختلف ڈائریکٹوریٹس کے افسران بھی موجود تھے
وزیر لائیو سٹاک و فشریز سندھ محمد علی ملکانی کی زیر صدارت ڈائریکٹوریٹ آف اینیمل بریڈنگ میں اجلاس

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 17 اگست (اے پی پی):سندھ کے وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی کی زیر صدارت ڈائریکٹوریٹ آف اینیمل بریڈنگ میں اجلاس منعقد ہوا۔ پیر کو منعقدہ اجلاس میں محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر جنرل حزب اللہ بھٹو اور مختلف ڈائریکٹوریٹس کے افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت مویشیوں کی بہتر اور نایاب نسلوں کے تحفظ و فروغ کے لیے مصنوعی تولیدی عمل کی سہولیات کو مزید وسعت دے رہی ہے تاکہ دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے اور مویشی پالنے والے فارمرز کو زیادہ فائدہ پہنچے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو مصنوعی تولیدی عمل کے مقررہ اہداف پر مؤثر عملدرآمد، معیاری سیمن کی فراہمی، کولڈ چین کی بہتر دیکھ بھال اور فیلڈ سرگرمیوں کی نگرانی مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے فارمرز میں آگاہی کے لیے تشہیری اور سوشل میڈیا مہم چلانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بہتر نسل کے مویشیوں کے لیے معیاری سیمن اور محکمہ کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات سے آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے اضلاع کی روزانہ کارکردگی کو ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کرنے کی بھی ہدایت کی۔
ڈائریکٹر بریڈنگ اقتدار میمن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ کے تمام اضلاع میں 24 مصنوعی تولیدی مراکز اور 124 سب سینٹرز فعال ہیں جبکہ رواں سال اب تک 54 ہزار مصنوعی تولیدی عمل مکمل کیے جا چکے ہیں، جو مقررہ ہدف کا تقریباً 70 فیصد ہے، پروگرام کے لیے 126 ویٹرنری افسران خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مویشیوں کی بہتر نسلوں کے فروغ کے لیے ’’لائیو سٹاک بریڈنگ ایپ‘‘ بھی متعارف کرائی گئی ہے جبکہ عالمی بینک کے تعاون سے سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایکوا کلچر ڈویلپمنٹ پروجیکٹ (ایس ایل اے ڈی پی) کے تحت نایاب نسلوں کے تحفظ اور فروغ پر بھی کام جاری ہے۔ محمد علی ملکانی نے کہا کہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں خصوصی فنی تربیت یافتہ عملے کی ضرورت ہے اس لیے خالی آسامیوں کو جلد پُر کرنے اور بھرتی کے طریقہ کار میں بہتری لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر نسل کے مویشیوں کے فروغ سے سندھ میں دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھے گی اور فارمرز کی معاشی حالت بہتر ہوگی۔







