اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پیمرا نے الیکٹرانک میڈیا پر قابل اعتراض مواد کے حوالے سے گزشتہ دو ماہ میں کارروائیوں کو تیز کیا ہے، میڈیا ہاﺅسز میں ایڈیٹوریل کنٹینٹ کمیٹیوں کو فعال اور مﺅثر بنانے کیلئے کہا گیا ہے، عوام کی طرف سے پیمرا کو شکایات کے حوالے سے بھی آگاہی پیدا …
وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا ایوان بالا میں پیمرا اور اے پی پی سے متعلق تحریک پر اظہار خیال
اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پیمرا نے الیکٹرانک میڈیا پر قابل اعتراض مواد کے حوالے سے گزشتہ دو ماہ میں کارروائیوں کو تیز کیا ہے، میڈیا ہاﺅسز میں ایڈیٹوریل کنٹینٹ کمیٹیوں کو فعال اور مﺅثر بنانے کیلئے کہا گیا ہے، عوام کی طرف سے پیمرا کو شکایات کے حوالے سے بھی آگاہی پیدا ہو رہی ہے،اے پی پی میں بلوچی نیوز سروس کے لئے 6 آسامیوں پر تقرری کی کارروائی زیر عمل ہے۔ پیر کو ایوان بالا میں سینیٹر کلثوم پروین کے پیمرا کی ٹی وی چینلز پر فرقہ وارانہ تشدد کو فروغ دینے والے مواد کی نشریات پر قابو پانے میں ناکامی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات نے کہا کہ پیمرا جس ایکٹ اور قوانین کے تحت کام کرتا ہے، اس کے تحت اس کے پاس فرقہ وارانہ مواد کو روکنے کا اختیار موجود ہے۔ 2015ءکے ضابطہ اخلاق میں بھی اس حوالے سے واضح ہدایات موجود ہیں۔ پیمرا میں سوموٹو اختیارات کے حوالے سے اصلاحات کی جا رہی ہیں کہ پیمرا کیسے کارروائی کر سکتا ہے۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات نے کہا کہ اداروں میں ادارتی مواد کی نگرانی کے لئے کمیٹیاں قائم ہیں جو مواد کا جائزہ لیتی ہیں، اداروں میں ایڈیٹوریل کنٹینٹ کمیٹیوں کو فعال اور مﺅثر بنانے کیلئے کہا گیا ہے۔









