وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات‘قومی ورثہ و پارلیمانی ٹاسک فورس برائے ایس ڈی جیز کی چیئرپرسن مریم اورنگزیب کاپاکستان انسٹی ٹیویٹ فار پارلیمنٹری سروسز میں قومی پارلیمانی گول میز کانفرنس سے خطاب اسلام آباد ۔ 2 نومبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات‘قومی ورثہ و پارلیمانی ٹاسک فورس برائے ایس ڈی جیز کی چیئرپرسن مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے چاروں صوبے، …
وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات‘قومی ورثہ مریم اورنگزیب کا گول میز کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات‘قومی ورثہ و پارلیمانی ٹاسک فورس برائے ایس ڈی جیز کی چیئرپرسن مریم اورنگزیب کاپاکستان انسٹی ٹیویٹ فار پارلیمنٹری سروسز میں قومی پارلیمانی گول میز کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ۔ 2 نومبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات‘قومی ورثہ و پارلیمانی ٹاسک فورس برائے ایس ڈی جیز کی چیئرپرسن مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے چاروں صوبے، گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر وفاق کے ساتھ مل کر بہتر انداز میںکام کر رہے ہیں ، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی کارروائی کوعوام تک پہنچانے کے لئے پاکستان ٹیلی ویژن” پارلیمنٹ چینل” شروع کررہا ہے ‘ ملینیئم ترقیاتی اہداف کی اپنے مقاصد حاصل نہ کرنے کی وجوہات میں دور آمریت ‘آئین کی معطلی اور پارلیمنٹ سے عدم وابستگی‘ 8 اہداف کے لئے اقوام متحدہ کی جانب سے مختلف ممالک سے اس ضمن میں ان پٹ نہ لیا جانا شامل ہیں، پہلی مرتبہ پارلیمنٹ آبادی کا نفرنس کا انعقاد کرنے جارہی ہے، پائیدار ترقی ہداف کے حصول کے لیے صوبوں میں موثر رابطے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال لازمی ہے۔ وہ جمعرات کو پاکستان انسٹی ٹیویٹ فار پارلیمنٹری سروسز میں نالج شیئرنگ کے لئے قومی پارلیمانی گول میز کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں ۔ پنجاب ‘خیبر پختونخوا ‘بلوچستان ‘گلگت بلتستان ‘آزاد کشمیر سے صوبائی ٹاسک فورسز برائے ایس ڈی جیز کے ممبران ‘ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیپس ظفر اللہ خان اور ایس ڈی جیز سیکرٹریٹ کے متعلقہ حکام بھی موجود تھے ۔وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز (ایم ڈی جیز) 1999 میں متعین ہو ئے تھے لیکن اس کے بعد منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ملک میں آمریت آگئی اورآمریت کے دور میں آئین معطل ہوتا ہے ‘اس کے بعد 2005 ءکے زلزلے کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا اور اقوام متحدہ کی جانب سے 8 اہداف کے لئے مختلف ممالک سے اس ضمن میں ان پٹ نہ لیا گیا۔ بعد ازاں 18ویں ترمیم میں ایم ڈی جیز کے متعدد شعبے صوبوں کو منتقل ہوگئے انہی وجوہات کی بناءپر ایم ڈی جیز کی کارکردگی خاطر خواہ نہیں رہی ۔2013 ءمیں جب ممبر ممالک کی جانب سے فریم ورک بنانے کے لئے رپورٹ واپس بھجوائی گئی تو اقوام متحدہ نے اہم اہداف پر مشتمل ایس ڈی جیز بنائے اور ممبر ممالک کو بھجوائے ۔








