وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد۔8نومبر(اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو اقامہ کی بنیاد پر نکالا گیا، پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مقبول ترین لیڈر کی گردن قانون کی تلوار سے کٹی تو اس پر فیصلہ پاکستان کے عوام نے دیا۔بدھ کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا …

اسلام آباد۔8نومبر(اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو اقامہ کی بنیاد پر نکالا گیا، پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مقبول ترین لیڈر کی گردن قانون کی تلوار سے کٹی تو اس پر فیصلہ پاکستان کے عوام نے دیا۔بدھ کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے تاریخ میں محمد نواز شریف کے لیے تین مرتبہ فیصلہ دیااور وہ عوام کے ووٹ سے تین مرتبہ ملک کے منتخب وزیراعظم بنے۔وزیر مملکت نے کہا کہ جس شخص نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام دیا، جس شخص نے پاکستان کی عدلیہ کو تحفظ دیا، وہ شخص 3 نومبر کو پاکستان کے آئین اور قانون کی پاسداری کیلئے کمرہ عدالت میں بیٹھا ہے جب کہ جس شخص نے اور جن لوگوں نے پاکستان کے آئین کو توڑا، پاکستان کی عدلیہ پر حملہ کیا، پاکستان کی پارلیمنٹ پر حملہ کیا، آئینی اور قانونی اداروں کو گالی دی وہ آزادفضا?ں میں پھر رہے ہیں۔شریف خاندان اور حکومت کو سسیلین مافیا اور گارڈ فادر کہا گیا۔ ہمیں امید تھی کہ جن جج صاحبان نے فیصلہ دیا تھا وہ یہ اپیل نہیں سنیں گے کیونکہ اس فیصلہ کو عوام نے ابھی تک نہیں مانا جس کی وجہ یہ ہے کہ بات منی لانڈرنگ سے شروع ہوئی تھی، ٹیکس چوری سے شروع ہوئی تھی کہ پاکستان کے عوام کا پیسہ لوٹا گیا اور یہ ساری بات پاناما لیکس سے شروع ہوئی تھی جس میں محمد نواز شریف کا نام تک نہیں تھا، بہت ہی اچھا ہوتا نظر ثانی اپیل کو رضاکارانہ طور پر کوئی اور بنچ سنتا اور فیصلہ دیتا۔شریف فیملی نے اس فیصلے کو تعصب پر مبنی قرار دیا ہے اور نظر ثانی اپیل میں بھی وہ تمام چیزیں موجود ہیں جن کی وجہ سے شریف خاندان نے اس فیصلے کو متنازعہ قرار دیا ہے۔فیصلے میںایک قافلے کا ذکر ہوا ، تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کا قافلہ تب لٹا تھا جب نظامِ عدل آمریت کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بن گیا تھا۔

Leave a Reply