اقوام متحدہ نے وسطی افریقی جمہوریہ میں ہیضے کی وبا پر قابو پانے کے لیے ایک ملین امریکی ڈالر کی ہنگامی امداد جاری کر دی ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ کاری انسانی امور کے مطابق اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی رابطہ کار ٹام فلیچر نے یہ فنڈز صحت کی سہولیات، عوامی آگاہی، پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کے اقدامات کے لیے جاری کیے ہیں
وسطی افریقی جمہوریہ میں ہیضے کی وبا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ نےامدادی فنڈز جاری کر دیے

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔16جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ نے وسطی افریقی جمہوریہ میں ہیضے کی وبا پر قابو پانے کے لیے ایک ملین امریکی ڈالر کی ہنگامی امداد جاری کر دی ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ کاری انسانی امور کے مطابق اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی رابطہ کار ٹام فلیچر نے یہ فنڈز صحت کی سہولیات، عوامی آگاہی، پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کے اقدامات کے لیے جاری کیے ہیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا اور اموات میں کمی لائی جا سکے۔اوسی ایچ اے نے بتایا کہ ہیضے کے کیسز دیہی علاقوں بیمبو اور مبائیکی سے پھیلتے ہوئے دارالحکومت بنگوئی کے تمام اضلاع تک پہنچ گئے ہیں، جس سے گنجان آباد شہری علاقوں میں بیماری کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اب تک ہیضے کے 400 سے زائد مشتبہ کیسز اور کمیونٹی سطح پر 36 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق بارشوں کا موسم، آبادی میں بیماری کے خلاف کم مدافعت، صاف پانی اور صفائی کی محدود سہولیات، جبکہ اوبانگوئی دریا کے راستے لوگوں کی نقل و حرکت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق ہیضے کے تمام کیسز میں 10 سال سے کم عمر بچوں کا حصہ 44 فیصد ہے۔ یونیسیف نے 300 مریضوں کے علاج کے لیے ہیضہ کٹس فراہم کی ہیں، کمیونٹی سطح پر علاج کے لیے 2 ہزار خوراکیں اورل ری ہائیڈریشن سالٹس اور زنک کی تقسیم کی ہے، جبکہ قومی ہیضہ علاج اور ریفرل مرکز کی گنجائش 40 سے بڑھا کر 70 بستروں تک کرنے کے لیے اضافی خیمے بھی نصب کیے گئے ہیں۔








