اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):صدر پاکستان بزنس فورم خواجہ محبوب الرحمن نے کہا ہے کہ وسط ایشیا کے جغرافیائی و اقتصادی تناظر میں ایک خاموش مگر نہایت اہم تبدیلی رونما ہو رہی ہے، جس میں پاکستان کو تیزی سے علاقائی تجارت کے لیے ایک مؤثر جنوبی گیٹ وے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وسط ایشیائی رہنماؤں کے حالیہ اعلیٰ سطحی دوروں نے اس رجحان کو مزید واضح کر …
وسط ایشیا کی بدلتی جغرافیائی و اقتصادی حکمتِ عملی میں پاکستان ایک اہم تجارتی ملک بن کر ابھر رہا ہے، صدر پاکستان بزنس فورم

مزید خبریں
اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):صدر پاکستان بزنس فورم خواجہ محبوب الرحمن نے کہا ہے کہ وسط ایشیا کے جغرافیائی و اقتصادی تناظر میں ایک خاموش مگر نہایت اہم تبدیلی رونما ہو رہی ہے، جس میں پاکستان کو تیزی سے علاقائی تجارت کے لیے ایک مؤثر جنوبی گیٹ وے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وسط ایشیائی رہنماؤں کے حالیہ اعلیٰ سطحی دوروں نے اس رجحان کو مزید واضح کر دیا ہے۔ پاکستان بزنس فورم کی جانب سے جمعہ کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں اقتصادی تعاون، رابطہ کاری اور دوطرفہ تجارت کے فروغ کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔
قازقستان اور ازبکستان کے صدور کے پاکستان کے حالیہ دورے اور اس سے قبل کرغزستان کے صدر کا دورہ اسلام آباد کو پاکستان بزنس فورم غیر معمولی اہمیت کے حامل قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورے محض سفارتی سرگرمیاں نہیں بلکہ اس بات کا اظہار ہیں کہ وسط ایشیائی ریاستیں پاکستان کو جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور عملی راستہ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وسط ایشیا کے بیشتر ممالک خشکی میں گھرے ہوئے ہیں، اس لیے پاکستان کی بندرگاہیں اور جغرافیائی محلِ وقوع انہیں کم لاگت اور مختصر تجارتی راستے فراہم کرتے ہیں۔
خواجہ محبوب الرحمن نے کہا کہ ا ن دوروں کے دوران وسط ایشیائی قیادت نے پاکستان کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے اور باہمی مذاکرات میں دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے، ٹرانزٹ ٹریڈ، لاجسٹکس اور علاقائی رابطہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی صنعتی صلاحیت، بڑی صارف منڈی اور بہتر ہوتے ہوئے تجارتی انفراسٹرکچر نے وسط ایشیائی ممالک کے لیے پاکستان کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خطے میں اہمیت صرف راہداری تجارت تک محدود نہیں بلکہ توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں مضبوط صلاحیتیں موجود ہیں۔
وسط ایشیائی ممالک توانائی اور خام مال فراہم کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان ویلیو ایڈڈ مصنوعات، افرادی قوت اور نیچے کی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اشتراک سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے جو اس وقت اپنی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہے۔صدر پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ قازقستان، ازبکستان اور کرغزستان کے صدور کے تسلسل سے دورے اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں پاکستان کی اقتصادی سمت اور کردار پر بین الاقوامی اعتماد بڑھ رہا ہے۔ فورم نے اس امر پر زور دیا کہ تجارتی سہولت کاری، بینکاری نظام میں بہتری اور پالیسی تسلسل کے ذریعے اس سفارتی پیش رفت کو عملی تجارتی نتائج میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
بدلتے ہوئے علاقائی تجارتی حالات میں پاکستان کو اب ایک ثانوی نہیں بلکہ ایک مرکزی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔فورم نے متعلقہ حکومتی اداروں اور نجی شعبے پر بھی زور دیا کہ اس مثبت رفتار سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ طے پانے والے فہم و اتفاق کو عملی شکل دیں۔ پاکستان بزنس فورم کے مطابق یہ دورے پاکستان اور وسط ایشیا کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہیں جو مستقل پالیسی، نجی شعبے کی شمولیت اور علاقائی تعاون کے ذریعے مشترکہ خوشحالی اور پائیدار اقتصادی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔








