اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں زیر سماعت سپر ٹیکس و ریونیو معاملات سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے دوران ٹیکس دہندگان کے ابتدائی اعتراضات کو وفاق کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔کیس کی سماعت جمعہ کو چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔بنچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے ۔ سماعت کے …
وفاقی آئینی عدالت سپر ٹیکس و ریونیو معاملات سے متعلق کیس کی سماعت 26جنوری تک ملتوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں زیر سماعت سپر ٹیکس و ریونیو معاملات سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے دوران ٹیکس دہندگان کے ابتدائی اعتراضات کو وفاق کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔کیس کی سماعت جمعہ کو چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔بنچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے ۔
سماعت کے دوران سیکرٹری ریونیو ڈویژن کی نمائندگی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات نہ صرف غلط فہمی پر مبنی ہیں بلکہ آئینی و قانونی فریم ورک کے بھی منافی ہیں۔
حافظ احسان احمد کھوکھر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقِ پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اسلام آباد ہائی کورٹ کے اُن فیصلوں سے متاثر ہوئے جن کا تعلق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4-سی (سپر ٹیکس) سے ہےجس کے خلاف متعدد انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کی گئیں۔ یہ اپیلیں آئین کے آرٹیکل 186-A کے تحت سپریم کورٹ کے آئینی دائرہ اختیار میں منتقل ہوئیں اور 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اس وقت وفاقی آئینی عدالت میں زیرِ التوا ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ آئین کے آرٹیکل 99 کے تحت وفاق کے انتظامی امور قواعدِ کار 1973 کے مطابق چلائے جاتے ہیں، جن کے شیڈول II میں ریونیو ڈویژن کو وفاقی حکومت کے ایک علیحدہ اور خودمختار ڈویژن کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔انہوں نے دلائل دیے کہ قواعدِ کار 1973 کے رول 14-A اور شیڈول II کے اندراج نمبر 35 کے تحت ٹیکس، مالیاتی پالیسی، ٹیکس قوانین کے نفاذ اور وفاقی محاصل کے تحفظ سے متعلق تمام امور مکمل طور پر ریونیو ڈویژن اور ایف بی آر کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
لہٰذا ریونیو سے متعلق مقدمات کا دائرہ، پیروی اور دفاع آئینی طور پر ریونیو ڈویژن کے اختیارات میں شامل ہے اور یہ وفاق ہی کے اقدامات تصور ہوں گے۔جوابی اعتراضات پر حافظ احسان احمد کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ قواعدِ کار 1973 میں کی گئی ترامیم کے بعد ریونیو معاملات میں وزارتِ قانون یا اٹارنی جنرل آفس سے مشاورت اب لازمی نہیں رہی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ریونیو مقدمات کو شیڈول II کے اندراج نمبر 21 سے خارج کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مالیاتی اور ٹیکس امور میں ریونیو ڈویژن اور ایف بی آر کو خودمختار قانونی اختیار حاصل ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قواعدِ کار کے رولز 3 اور 4 کے تحت جب کسی موضوع کو کسی ڈویژن کے سپرد کیا جاتا ہے تو وہ ڈویژن اس سے متعلق تمام انتظامی و قانونی اقدامات کا مجاز ہوتا ہے، جن میں عدالتی کارروائی کا آغاز، پیروی اور دفاع بھی شامل ہے۔ لازمی مشاورت پر اصرار کرنا ترامیم کے مقصد کے منافی اور مالیاتی نظم و نسق میں رکاوٹ کے مترادف ہوگا۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آرریونیو ڈویژن کا منسلک محکمہ ہے اور ایف بی آر ایکٹ 2007 سمیت آئینی و قانونی ذرائع سے اپنی اتھارٹی حاصل کرتا ہے اس لیے ریونیو مقدمات میں ایف بی آر اور اس کے افسران کے اقدامات وفاق کے اقدامات ہی تصور کیے جائیں گے اور انہیں قانونی تحفظ حاصل ہے۔
انہوں نے کہاکہ عوامی محاصل کے تحفظ کو تکنیکی اعتراضات کے ذریعے ناکام نہیں بنایا جا سکتا۔ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی سپر ٹیکس کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ کا حکمِ امتناع ختم کر چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ نے ٹیکس دہندگان کو ہدایت دی تھی کہ وہ سپر ٹیکس کی مد میں 50 فیصد رقم ایف بی آر کو جمع کروائیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا سندھ اور لاہور ہائیکورٹس کے علاوہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی کوئی نیا درخواست گزار سامنے آیا تھا؟ اس پر وکیل ایف بی آر عاصمہ حامد نے عدالت کو آ گاہ کیا کہ زیادہ تر پرانے درخواست گزار ہی تھے تاہم ان کے ساتھ کچھ نئے ٹیکس دہندگان بھی شامل ہوئے تھے۔وکیل ایف بی آر عاصمہ حامد نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔
سماعت کے دوران ایف بی آر کے وکلانے مجموعی طور پر اپنے مؤقف سے عدالت کو آگاہ کیا۔بعد ازاں عدالت نے سپر ٹیکس کیس کی سماعت پیر 26جنوری تک ملتوی کردی ۔وفاق کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر پیر کے روز بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔








