وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت 23جنوری تک ملتوی

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق اہم آئینی کیس کی سماعت جمعہ 23 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ جمعرات کو چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے دوران فوجی فرٹیلائزرز اور دیگر کمپنیوں کے وکیل جمال احمد سکھیرا نے اپنے …

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق اہم آئینی کیس کی سماعت جمعہ 23 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ جمعرات کو چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے دوران فوجی فرٹیلائزرز اور دیگر کمپنیوں کے وکیل جمال احمد سکھیرا نے اپنے دلائل مکمل کیے۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت فنانس ایکٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل وفاق کی باقاعدہ توثیق ضروری ہوتی ہے۔جمال احمد سکھیرا نے عدالت سے استدعا کی کہ سپر ٹیکس سے متعلق فنانس ایکٹ کا سیکشن 4 سی خلافِ ضابطہ ہے لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔چیف جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ اس وقت کمپنیاں کتنا ٹیکس ادا کر رہی ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ اس وقت کمپنیاں مجموعی طور پر 40 فیصد ٹیکس ادا کر رہی ہیں۔وکیل نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس وصولی سال کے آغاز سے ہی شروع کر دی جاتی ہے اور سال کے اختتام کا انتظار نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر مقررہ حد سے زائد رقم پر ٹیکس عائد ہوتا ہے، تاہم سپر ٹیکس کے معاملے میں اگر ایک روپے کی بھی حد سے تجاوز ہو جائے تو پوری رقم پر ٹیکس نافذ کر دیا جاتا ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ مختلف کمپنیوں کے وکیل شہزاد الٰہیٰ آئندہ سماعت پر اپنے دلائل دیں گےجبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی وکیل عاصمہ حامد بھی جمعہ کو عدالت میں دلائل پیش کریں گی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعہ 23 جنوری تک ملتوی کر دی۔