وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا پولیس اصلاحات سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹس کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار حاصل نہیں اور کسی زیر سماعت مقدمے کے دائرہ کار سے باہر جا کر پولیس اصلاحات یا پولیس افسران کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری نہیں کئے جا سکتے

اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹس کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار حاصل نہیں اور کسی زیر سماعت مقدمے کے دائرہ کار سے باہر جا کر پولیس اصلاحات یا پولیس افسران کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری نہیں کئے جا سکتے۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پولیس افسران امجد احمد شیخ اور آصف علی کی جانب سے دائر اپیلوں پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس میں ایک فوجداری مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس اصلاحات اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سندھ ہائیکورٹ کے روبرو پولیس افسران کے خلاف کوئی مقدمہ زیر سماعت نہیں تھا، اس لئے ان کے خلاف کارروائی اور پولیس اصلاحات سے متعلق احکامات دینا عدالتی اختیار سے تجاوز کے مترادف تھا۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو ازخود نوٹس کے مترادف قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہائیکورٹس کو آرٹیکل 199 کے تحت ایسی کارروائی کا اختیار حاصل نہیں ۔عدالت نے حکم دیا کہ پولیس افسران کے خلاف جاری انکوائری قانون کے مطابق مکمل کی جائے تاہم سندھ ہائیکورٹ کا کالعدم قرار دیا گیا فیصلہ اس انکوائری پر اثرانداز نہیں ہوگا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے تقریباً 30 سال پرانے فیصلے میں دی گئی اصلاحات پر عملدرآمد کی ہدایت دی تھی تاہم سندھ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کے نظام میں اس عرصے کے دوران متعدد نئی قانون سازی اور اصلاحات کی جا چکی ہیں جنہیں بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے ان دلائل کی روشنی میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیلیں منظور کرلیں۔

مزید خبریں