وفاقی آئینی عدالت نے نئی گج ڈیم کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے نئی گج ڈیم کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی ۔ وفاقی آئینی عدالت میں منگل کو نئی گج ڈیم کیس کی سماعت کے دوران قابلِ سماعت ہونے کے اعتراضات پر بحث ہوئی جس کے بعد عدالت نے کارروائی پیر تک ملتوی کر دی۔وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی …

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے نئی گج ڈیم کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی ۔ وفاقی آئینی عدالت میں منگل کو نئی گج ڈیم کیس کی سماعت کے دوران قابلِ سماعت ہونے کے اعتراضات پر بحث ہوئی جس کے بعد عدالت نے کارروائی پیر تک ملتوی کر دی۔وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر نجی کمپنی کے وکیل محمد مسعود خان نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں ان کی جانب سے تین تحریری جوابات جمع کرائے جاچکے ہیں۔وکیل مسعود خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس مقدمے پر پہلے سندھ ہائیکورٹ کے دو ججز حکم جاری کرچکے ہیں تاہم ابھی تک کیس کو باضابطہ طور پر قابلِ سماعت قرار نہیں دیا گیا۔وکیل کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اس نوعیت کی تمام درخواستیں وفاقی آئینی عدالت میں منتقل ہونا لازمی ہیں۔

وکیل نے کہاکہ ایف ون سی کے تحت میرٹ سننے سے پہلے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ آنا ضروری ہےاور سپریم کورٹ کے قواعداب بھی قابلِ عمل ہیں۔چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ آئین میں ایسی کوئی پابندی موجود نہیں کہ دو ممبران کا فیصلہ دو ممبران نہیں سن سکتے۔یہ ا اصول سپریم کورٹ رولز کا حصہ تھاآئین میں اس کی کوئی شرط نہیں پائی جاتی۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے مزید کارروائی اسی روز جاری رکھنے کا اعلان کیا۔