وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق دائر آئینی درخواست پر وکیل کے بغیر حکمِ امتناع دینے کی فوری استدعا مسترد کر دی

اسلام آباد ۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق دائر آئینی درخواست میں درخواست گزاروں کو وکیل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وکیل کے بغیر حکمِ امتناع دینے کی فوری استدعا مسترد کر دی ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پیر کے روز کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار …

اسلام آباد ۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق دائر آئینی درخواست میں درخواست گزاروں کو وکیل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وکیل کے بغیر حکمِ امتناع دینے کی فوری استدعا مسترد کر دی ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پیر کے روز کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ پنجاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی اپیل منظور ہوئی تھی جس کے خلاف انہوں نے آئینی درخواست دائر کر رکھی ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وہ مناسب وکیل مقرر کرکے عدالت میں پیش ہوں وکیل کے بغیر کیس نہیں سنا جا سکتا۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ انہیں عبوری تحفظ فراہم کیا جائےبصورتِ دیگر ڈیپارٹمنٹ میں ان کی گیٹ انٹری بند کی جا سکتی ہے۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ آپ اوور اسمارٹ نہ بنیں، گیٹ انٹری کے علاوہ اور بھی بہت کچھ بند ہو سکتا ہے، پہلے اپنا وکیل کریں ورنہ ہم ابھی درخواست مسترد کر دیں گے۔درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ وکیل کرنے کے لیے تیار ہیں اور عبوری ریلیف چاہتے ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کی جذباتی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بغیر وکیل کے حکم امتناع جاری نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو وکیل مقرر کرنے کے لیے مہلت دیتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔