وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں نَسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے احکامات واپس لے لیے
وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں نَسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے احکامات واپس لے لیے

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں غیرقانونی تعمیرات سے متعلق مقدمے کا 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے نَسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے احکامات واپس لے لیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ عدالتیں اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہیں اور غیر ضروری معاملات میں مداخلت نہ کریں۔جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جاری کیے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے سامنے لیاری کی ایک غیرقانونی عمارت سے متعلق اپیل زیر سماعت تھی، تاہم عدالت نے اس مقدمے کا دائرہ پہلے پورے لیاری اور پھر کراچی شہر تک وسیع کر دیا۔ فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے زیر سماعت مقدمے سے آگے بڑھ کر غیرقانونی شادی ہالز، شاپنگ سینٹرز، مارکیٹس اور کراچی ماسٹر پلان کے خلاف تعمیرات مسمار کرنے جیسے وسیع احکامات جاری کیے، جو عدالتی اختیارات سے تجاوز کے مترادف تھے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ بلڈنگ قوانین اور تعمیرات سے متعلق معاملات صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ آئین اور قانون سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور سندھ حکومت کو غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا پابند بناتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانونی نظام اور متعلقہ ادارے پہلے سے موجود ہیں، اس لیے قانون کے مطابق انہی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں۔عدالت نے کہا کہ صرف ایس بی سی اے کی رپورٹ کی بنیاد پر کسی عمارت کو مسمار کرنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اس کے خلاف کارروائی مکمل قانونی تقاضے اور شفاف طریقہ کار کے مطابق کی جائے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت کسی غیرقانونی تعمیر کو جائز قرار نہیں دے رہی بلکہ یہ قرار دے رہی ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے قانون اور طریقہ کار پہلے سے موجود ہے، جس پر متعلقہ اداروں کو عملدرآمد کرنا چاہیے۔عدالت نے قرار دیا کہ اصل مقدمہ لیاری کی ایک عمارت سے متعلق تھا، جو فریقین کے مطابق اب غیر مؤثر ہو چکا ہے، لہٰذا سپریم کورٹ کی جانب سے اس مقدمے میں جاری کیے گئے تمام احکامات واپس لیتے ہوئے کیس نمٹا دیا گیا۔تحریری فیصلے کے ساتھ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے اضافی نوٹ بھی تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور عوامی سہولیات کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارکس، کھیل کے میدان، گرین بیلٹس، فٹ پاتھ، ساحل اور دیگر عوامی مقامات کو غیرقانونی قبضوں اور غیرقانونی تبدیلیوں سے ہر صورت محفوظ بنایا جائے۔








