اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی-21 حب کے ضمنی انتخاب سے متعلق اپیل کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے دوبارہ گنتی کے حکم کو برقرار رکھا۔یہ کیس چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سماعت کے لئے پیش کیا گیا جبکہ …
وفاقی آئینی عدالت پاکستان کا حلقہ پی بی-21 حب کے ضمنی انتخاب سے متعلق اپیل کی اجازت دینے سے انکار ، بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق

مزید خبریں
اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی-21 حب کے ضمنی انتخاب سے متعلق اپیل کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے دوبارہ گنتی کے حکم کو برقرار رکھا۔یہ کیس چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سماعت کے لئے پیش کیا گیا جبکہ جسٹس علی باقر نجفی نے فیصلے کا مسودہ تیار کیا۔
اپیل محمد صالح بھوتانی کی جانب سے دائر کی گئی تھی جنہیں 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں ابتدائی طور پر کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ریکارڈ کے مطابق ابتدائی غیر حتمی نتائج (فارم-47) میں محمد صالح بھوتانی نے 30,910 ووٹ حاصل کئے جو دوسرے نمبر پر موجود رجب علی رند اور تیسرے نمبر پر علی حسن زہری سے کافی آگے تھے تاہم علی حسن زہری نے دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کی اور متعدد پولنگ سٹیشنز سے اپنے پولنگ ایجنٹس کے نکالے جانے، مبینہ بیلٹ کی چھیڑ چھاڑ اور حلقے کے کچھ علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکافی موجودگی جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔ریٹرننگ افسر نے ابتدائی طور پر امیدواروں کے درمیان واضح فرق نوٹ کیا لیکن موجودہ سکیورٹی صورتحال اور امیدواروں کی شکایات کے پیش نظرالیکشن کمیشن سے رہنمائی طلب کی۔ آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کی متعلقہ دفعات کے تحت الیکشن کمیشن نے منتخب پولنگ سٹیشنز میں دوبارہ گنتی کا حکم دیا۔
دوبارہ گنتی کے دوران سکیورٹی مسائل پیدا ہوئے جن میں مبینہ الیکشن مواد کی چھیڑ چھاڑ سے متعلق تشدد اور گرفتاریوں کی اطلاعات شامل تھیں جس کی وجہ سے عمل وقتی طور پر رکا۔بعد ازاں الیکشن کمیشن کی پانچ رکنی بنچ نے دوبارہ اپنی پچھلی گنتی کے حکم کو برقرار رکھا اور مسترد شدہ بیلٹس سمیت گنتی مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ دوبارہ گنتی کے بعد حتمی نتائج میں علی حسن زہری کو کامیاب قرار دیا گیا جنہوں نے 23,974 ووٹ حاصل کئے جبکہ بھوتانی تیسرے نمبر پر آگئے۔بھوتانی نے دوبارہ گنتی اور حتمی نتائج کو چیلنج کیا لیکن بلوچستان ہائی کورٹ نے ان کی اپیل خارج کر دی۔
بعد ازاں انہوں نے وفاقی آئینی عدالت سے اجازت اپیل طلب کی۔وفاقی آئینی عدالت نے ریکارڈ اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد کوئی ایسا جواز نہیں پایا جو ہائی کورٹ کے فیصلے یا الیکشن کمیشن کے آئینی اختیار میں مداخلت کی بنیاد فراہم کرتا، اس لئے اپیل مسترد کر دی گئی۔فیصلہ الیکشن کمیشن کے آئینی اختیار کو مضبوط کرتا ہے اور اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انتخابی عمل شفاف، منصفانہ اور جائز طریقے سے مکمل ہونا چاہئے جبکہ عدلیہ کی مداخلت صرف واضح قانونی خلاف ورزی کے حالات میں ممکن ہے۔








