اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے رہائشی پلاٹ کو کمرشل میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا سابق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور معاملہ دوبارہ سماعت و فیصلے کے لیے ہائیکورٹ کو واپس بھجوا دیا۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ کیس پر 90 دن کے اندر دوبارہ فیصلہ کرے۔دو رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس حسن اظہر رضوی نے کی۔ …
وفاقی آئینی عدالت کا رہائشی پلاٹس کو کمرشل میں تبدیل کرنے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم، معاملہ 90 یوم میں دوبارہ فیصلے کیلئے واپس بھجوا دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے رہائشی پلاٹ کو کمرشل میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا سابق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور معاملہ دوبارہ سماعت و فیصلے کے لیے ہائیکورٹ کو واپس بھجوا دیا۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ کیس پر 90 دن کے اندر دوبارہ فیصلہ کرے۔دو رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس حسن اظہر رضوی نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے رہائشی پلاٹس کو کمرشل کرنے سے شہر وں کی تباہی ہو تی ہے۔ پرانے بڑے شہروں میں رہائشی پلاٹس کو کمرشل میں تبدیل نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ ایک گھر میں پانچ سے چھ افراد رہتے ہیں لیکن جب کسی پلاٹ کو کمرشل میں تبدیل کیا جاتا ہے تو وہاں پورا بازار قائم ہو جاتا ہے جس سے ٹریفک، آلودگی اور دیگر شہری مسائل جنم لیتے ہیں۔ جسٹس رضوی نے مزید کہا کہ کراچی میں رہائشی پلاٹس کو کمرشل میں تبدیل کرنے کے نتائج آج بھی بھگتے جا رہے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ رہائشی علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے جیسے معاملات میں شہری مفاد، ماحولیاتی اثرات اور ماسٹر پلان کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے، اسی لیے معاملہ ازسرنو غور کے لیے لاہور ہائیکورٹ کو بھجوایا جا رہا ہے۔








