اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے وکیل کی عدم حاضری اور آئینی عدالت کے بجائے سپریم کورٹ میں پیش ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کے لیے واضح انتباہ جاری کردیا۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایک پراپرٹی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ وکلا پہلے آئینی عدالت میں پیش ہوں، یہ طریقہ درست نہیں کہ کیس یہاں …
وفاقی آئینی عدالت کا وکیل کی عدم حاضری پر اظہارِ برہمی، آئندہ مقدمہ خارج کرنے کا انتباہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے وکیل کی عدم حاضری اور آئینی عدالت کے بجائے سپریم کورٹ میں پیش ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کے لیے واضح انتباہ جاری کردیا۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایک پراپرٹی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ وکلا پہلے آئینی عدالت میں پیش ہوں، یہ طریقہ درست نہیں کہ کیس یہاں مقرر ہو اور وکیل کسی اور عدالت میں مصروف ہو جائیں۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت سب سے بڑی عدالت ہے، اس لیے وکلا کو اپنی پیشیوں کو اسی حساب سے ترتیب دینا چاہیے۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مناسب طرزِ عمل نہیں کہ وکیل یہاں پیش ہونے کے بجائے سپریم کورٹ میں پیش ہوں۔عدالت نے متنبہ کیا کہ اگر آئندہ سماعت پر وکیل پیش نہ ہوئے تو مقدمہ خارج کردیا جائے گا۔ بعد ازاں کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔








