وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کا اہم فیصلہ، خاتون شکایت کنندہ کو 40 لاکھ روپے کا ریلیف دیا گیا

اسلام آباد۔23مئی (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپا) نے جموں و کشمیر کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ایک خاتون شکایت کنندہ کو تقریباً 40 لاکھ روپے کا ریلیف فراہم کر دیا ۔ اس فیصلے سے نہ صرف خاتون کو اُس کا جائز حق ملا بلکہ سوسائٹی کی کئی سالوں پر کی مالی بے ضابطگیوں کو بھی بے نقاب کیا گیا۔ جمعہ کو وفاقی …

اسلام آباد۔23مئی (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپا) نے جموں و کشمیر کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ایک خاتون شکایت کنندہ کو تقریباً 40 لاکھ روپے کا ریلیف فراہم کر دیا ۔ اس فیصلے سے نہ صرف خاتون کو اُس کا جائز حق ملا بلکہ سوسائٹی کی کئی سالوں پر کی مالی بے ضابطگیوں کو بھی بے نقاب کیا گیا۔

جمعہ کو وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق شکایت کنندہ نے 2003 میں پلاٹ حاصل کرنے کے لیے مکمل رقم ادا کر دی تھی، لیکن سوسائٹی نے دو دہائیوں تک ان سے صرف وعدے کیے اور پلاٹ کا قبضہ نہ دیا۔ مزید یہ کہ سوسائٹی نے بغیر کسی قانونی جواز کے 3 لاکھ 40 ہزار روپے اضافی ترقیاتی چارجز مانگے۔ فوسپاہ کی مداخلت سے نہ صرف یہ رقم واپس لی گئی، بلکہ شکایت کنندہ کو اُس کا 200 گز کا پلاٹ بغیر کسی اضافی ادائیگی کے الاٹ کر دیا گیا جو کہ تقریباً 40 لاکھ روپے کی مالیت کا ریلیف ہے۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ سوسائٹی نے 2003 سے لوگوں سے پلاٹس کے نام پر پیسے لیے، لیکن نہ کوئی ترقیاتی کام کیا اور نہ ہی وعدے پورے کیے۔

لوگوں سے بار بار اضافی رقم مانگی جاتی رہی، جو دھوکہ دہی، امانت میں خیانت اور مالی بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے۔وفاقی محتسب محترمہ فوزیہ وقار نے حکم دیا ہے کہ سوسائٹی فوری طور پر شکایت کنندہ کو ایف-16/4 فیز میں 200 گز کا پلاٹ الاٹ اور اس کا قبضہ دے، اور آئندہ کسی بھی قسم کی رقم شکایت کنندہ سے وصول نہ کی جائے کیونکہ وہ پہلے ہی مکمل ادائیگی کر چکی ہیں۔

ساتھ ہی رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سوسائٹی کا مکمل آڈٹ کریں، دھوکہ دہی اور ترقیاتی کام نہ ہونے کی تحقیقات کریں، اور جو لوگ اس بدانتظامی کے ذمہ دار ہیں اُن کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فوسپا صرف ہراسانی کے خلاف نہیں بلکہ عورتوں کے جائیداد کے حقوق کی حفاظت کے لیے بھی سرگرم ہے، جیسا کہ عورتوں کے جائیداد کے حقوق کے نفاذ کا قانون 2020 میں درج ہے۔

مزید خبریں