اسلام آباد ۔ 12 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزارت داخلہ نے مشکوک مدارس کے خلاف کارروائی کے حوالے سے حکومتِ سندھ کو جوابی مراسلہ ارسال کر دیا ۔ترجمان وزارت داخلہ کے کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے حکومت سندھ کوبھجوائے گئے جوابی مراسلے کے مدرجات میں "مشکوک مدارس"کا نہ پتہ ہے، نہ کوئی ثبوت اور نہ ہی کسی قسم کے شواہد ہیں‘ صوبائی حکومت کی جانب سے …
وفاقی وزارت داخلہ نے مشکوک مدارس کے خلاف کارروائی کے حوالے سے حکومتِ سندھ کو جوابی مراسلہ ارسال کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزارت داخلہ نے مشکوک مدارس کے خلاف کارروائی کے حوالے سے حکومتِ سندھ کو جوابی مراسلہ ارسال کر دیا ۔ترجمان وزارت داخلہ کے کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے حکومت سندھ کوبھجوائے گئے جوابی مراسلے کے مدرجات میں "مشکوک مدارس”کا نہ پتہ ہے، نہ کوئی ثبوت اور نہ ہی کسی قسم کے شواہد ہیں‘ صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فہرست میں نہ تو مذکورہ مدارس کو”مشکوک”قرار دیے جانے کا کوئی جواز مہیا کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کا مکمل پتہ اور دیگر ضروری تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ سکھر اور کراچی کے حدود سے باہر واقع مدارس کے ناموں کا اندراج تک نہیں ہے۔ ان میں سے بہت سے مدارس سندھ میں نہیں بلکہ خیبر پختونخوا، پنجاب اور فاٹا وغیرہ میں موجود ہیں جو سندھ حکومت کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ ‘مشکوک مدارس کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائی جائے اس سلسلے میں متعلقہ صوبائی حکومت کی طرف سے کسی قسم کی کوئی سفارش نہیں کی گئی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بغیر کسی ٹھوس شواہد اور مکمل معلومات اپنی انتظامی و جغرافیائی حدود سے باہر واقع مدارس کے خلاف کارروائی کی سفارش سمجھ سے بالاتر ہے۔








