اسلام آباد ۔ 25 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیرمذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہاہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ مرکز کے پاس رہناچاہیے تھا اس سے قومی سطح پر پالیسی بنانے میں مد د مل سکتی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت مدرسہ اصلاحات کی بجائے تعلیمی اصلاحات لا رہی ہے جس کامقصد معاشرے میں مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی سمیت نفرت انگیز ماحول …
وفاقی وزیرمذہبی امور سردار محمد یوسف کی علماءو مشائخ کونسل کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو بریفنگ
اسلام آباد ۔ 25 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیرمذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہاہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ مرکز کے پاس رہناچاہیے تھا اس سے قومی سطح پر پالیسی بنانے میں مد د مل سکتی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت مدرسہ اصلاحات کی بجائے تعلیمی اصلاحات لا رہی ہے جس کامقصد معاشرے میں مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی سمیت نفرت انگیز ماحول کا خاتمہ ہے ۔ پاکستان میں امن ہو گا، پوری دنیا میں قیام امن کے لئے ہم بہتر کردار ادا کرسکیں گے۔ 41 ممالک کے اتحاد کی قیادت پاکستان کو ملنا اعزاز کی بات ہے۔ بدھ کو علماءو مشائخ کونسل کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ میں انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں پہلی مرتبہ علماءو مشائخ کونسل کا نوٹیفکیشن ہوا ، کونسل میں گلگت بلتستان ، آزاد کمشیر سمیت پورے ملک کے مختلف طقبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور مشائخ عظام شامل تھے۔ اس سے پہلے دو اجلاس منعقد ہو چکے ہیں یہ کونسل کا تیسراجلاس ہے ، کونسل میں ملک کے پانچو ں وفاق المدارس کے ذمہ دار نمائندے شریک ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وزارت مذہبی امور کی طرف سے قومی اسمبلی میں تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں ناظرہ اوربا ترجمہ قرآن پاک کی لازمی تعلیم کابل پیش کرکے منظور کرایاگیا ۔









