وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت کی زیرِ صدارت اجلاس ، ٹیلی میڈیسن منصوبے کی ابتدائی تین ماہ کی کارکردگی کا جائزہ

وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت کی زیرِ صدارت اجلاس ، ٹیلی میڈیسن منصوبے کی ابتدائی تین ماہ کی کارکردگی کا جائزہ

اسلام آباد۔13اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں ٹیلی میڈیسن منصوبے کی ابتدائی تین ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ’’صحت کہانی‘‘ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی شریک ہوئیں۔اجلاس کے دوران وزیرِ صحت کو منصوبے پر بریفنگ دی گئی جس میں اس کی کامیابی اور عوامی سطح پر مثبت اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق اسلام آباد کے بنیادی مراکز صحت اور کراچی کی ڈسپنسریوں سمیت مجموعی طور پر 8 مراکز میں اس منصوبے کو کامیابی سے نافذ کیا گیا جہاں ہزاروں مریضوں کو جنرل اور سپیشلسٹ کنسلٹیشنز فراہم کی گئیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ خصوصاً گائناکالوجی، پیڈیاٹرکس اور امراضِ جلد کی سہولیات نمایاں رہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مریضوں کی بڑی تعداد صفر سے 9 اور 20 سے 49 سال کی عمر کے گروپس سے تعلق رکھتی تھی جبکہ 65 فیصد مریض خواتین تھیں۔مزید بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت 15 بڑی بیماریوں کے مؤثر علاج اور مینجمنٹ کو ممکن بنایا گیا ہے۔ ٹیلی میڈیسن کے نفاذ سے دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں میں مریضوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مقامی سطح پر سپیشلسٹ سہولیات کی دستیابی نے نہ صرف علاج میں تاخیر کو کم کیا بلکہ مریضوں کو بروقت طبی سہولیات فراہم کرنا بھی ممکن بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن منصوبہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ ایک انقلابی اقدام ثابت ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنایا جا رہا ہے جو بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کے بوجھ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ وزیرِ صحت نے ہدایت دی کہ ٹیلی میڈیسن کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے تاکہ ملک کے زیادہ سے زیادہ علاقوں میں کم لاگت پر معیاری بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔