وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور اورترک وزیر الپرسلان بیرکتار کے درمیان ملاقات ، تیل و گیس اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اورترکیہ کے توانائی اور قدرتی وسائل کے وزیر الپرسلان بیرکتار کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی، ملاقات میں تیل و گیس اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق ترک وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے …

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اورترکیہ کے توانائی اور قدرتی وسائل کے وزیر الپرسلان بیرکتار کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی، ملاقات میں تیل و گیس اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق ترک وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف، صدر رجب طیب ایردوان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور اسی جذبے کے تحت پاکستان اسٹریٹجک شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے۔ ترک وفد کی قیادت وزیرِ توانائی الپرسلان بیرکتارنے کی جبکہ وفد میں ڈپٹی وزیر احمد بیرات، ایم ٹی آئی اے سی کے ڈائریکٹر جنرل، ٹی پی اے او کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر سینئر حکام شامل تھے۔ الپرسلان بیرکتار نے پرتپاک استقبال پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش رفت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مختصر عرصے میں میرا پاکستان کا تیسرا دورہ ہے، ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے گزشتہ دورہ پاکستان کے اختتام پر کہا تھا کہ مجھے دوبارہ پاکستان آنا چاہیئے اور آج میں پاکستان میں ٹھوس اور عملی منصوبوں کے ساتھ واپس آکر خوش ہوں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ تیل و گیس کی تلاش، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور کان کنی کے شعبے میں نئے منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 5 بلین ڈالر کی تجارت کے ہدف کے حصول میں توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں مضبوط تعاون اہم کردار ادا کرے گا۔پاکستان منرلز انویسٹمنٹ کانفرنس میں اپنی شمولیت کا حوالہ دیتے ہوئے الپرسلان بیرکتار نے کہا کہ کانفرنس نے پاکستان کی معدنی صلاحیت کو واضح طور پر اجاگر کیا ہے، اسی لیے میں اپنے ساتھ ایک ترک مائننگ کمپنی لایا ہوں۔ پاکستان کے ساتھ کان کنی کے شعبے میں ترکیہ کا داخلہ ایک سنگ میل ہے اور ہم طویل المدتی باہمی فائدہ مند شراکت داری کے خواہاں ہیں۔

ملاقات کے دوران میری انرجیز، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے مینیجنگ ڈائریکٹرز نے جاری اور آئندہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی اور ترک کمپنیوں کے ساتھ تیل اور گیس کی تلاش اور کان کنی کے شعبوں میں باہمی تعاون کے مواقع اجاگر کیے۔ ایم ڈی او جی ڈی سی ایل نے کمپنی کے بنیادی کاروبار، ریکوڈک منصوبے میں اس کی شمولیت، ملک کے پہلے شیل (shale)گیس پائلٹ پراجیکٹ اور ٹائٹ گیس سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے ترک وفد کو او جی ڈی سی ایل کے ان کنونشنل ہائیڈرو کاربن پروگرام میں مشترکہ منصوبہ کار اور ٹیکنالوجی پارٹنر کے طور پر شامل ہونے کی دعوت بھی دی۔

دونوں وزراءالپرسلان بیرکتاراور علی پرویز ملک نے اتفاق کیا کہ رواں ماہ اسلام آباد میں ترک پیٹرولیم کا دفتر قائم کیا جائے گا جہاں دس ترک ماہرین مقامی عملے کے ساتھ خدمات انجام دیں گے۔ انہوں نے اپنی متعلقہ توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم کی خریداری کے لیے مشترکہ تجارتی کمپنی کے قیام کے تصور کا جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا تاکہ دونوں ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کر سکیں۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے سرمایہ کاری کی سہولت بڑھانے اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے تمام ممکنہ مواقع کو بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔بعد ازاں دونوں وزراء اہم معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے ایک ساتھ وزیراعظم ہاؤس روانہ ہو گئے۔

 

مزید خبریں