اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے بدھ کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان بیت المال (پی بی ایم) کے تحت مستحق مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی و مالی معاونت کے انتظامی اور سہولتی امور کا جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر پاکستان بیت المال کے نمائندے بھی موجود تھے۔دورے …
وفاقی وزیرکا پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا دورہ، مستحق مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی و مالی معاونت کے انتظامی اور سہولتی امور کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے بدھ کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان بیت المال (پی بی ایم) کے تحت مستحق مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی و مالی معاونت کے انتظامی اور سہولتی امور کا جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر پاکستان بیت المال کے نمائندے بھی موجود تھے۔دورے کے دوران وفاقی وزیر کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے مریضوں کی سہولت کاری، علاج کی سہولیات اور پاکستان بیت المال کے ساتھ مالی معاونت کے کیسز سے متعلق بریفنگ دی جبکہ پی بی ایم اور ہسپتال کے درمیان جاری کوآرڈینیشن کے امور پر بھی آگاہ کیا گیا۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ سال 2024–2025 کے دوران پمز میں 2100 سے زائد مریضوں کو پاکستان بیت المال کے ذریعے معاونت فراہم کی گئی۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ کیس پراسیسنگ بالخصوص ایمرجنسی اور جان بچانے والے علاج کے کیسز کے لیے مزید تیز اور مریضوں کے لیے سہل کیا جائے، پمز و پاکستان بیت المال کے درمیان رابطہ مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے پمز میں پاکستان بیت المال کا مستقل فیسلیٹیشن کائونٹر دوبارہ فعال کرنے کی ہدایت بھی دی ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید عمران احمد شاہ نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے دوران اب تک پمز میں 1000 سے زائد مریضوں کو پاکستان بیت المال کے تحت معاونت فراہم کی جا چکی ہے جو حکومت کی جانب سے سماجی تحفظ کے بہتر نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں مالی سال کے لیے پاکستان بیت المال کے بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 10 ارب روپے سے بڑھا کر 14 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس سے فلاحی پروگراموں اور طبی معاونت کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کے اسی نوعیت کے جائزہ دورے ملک بھر کے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں جاری رکھے جائیں گے تاکہ مالی معاونت اور سکالرشپس سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔








