وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام کی ڈبلیو ٹی ڈی سی کے موقع پر اہم سفارتی ملاقاتیں، پاکستان خطے کا سٹریٹجک ڈیجیٹل مرکز بن چکا ہے ، شزا فاطمہ خواجہ

باکو ۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے ورلڈ ٹیلی کمیونیکیشن ڈویلپمنٹ کانفرنس (ڈبلیو ٹی ڈی سی) کے موقع پر متعدد اہم ملاقاتیں کیں جن میں ڈیجیٹل تعاون، علاقائی کنیکٹیویٹی اور سمارٹ ڈویلپمنٹ ایجنڈے کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ انہوں نے آئی ٹی یو کی سیکرٹری جنرل دورین بوگڈن مارٹن سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان خطے کا سٹریٹجک ڈیجیٹل مرکز بن چکا …

باکو ۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے ورلڈ ٹیلی کمیونیکیشن ڈویلپمنٹ کانفرنس (ڈبلیو ٹی ڈی سی) کے موقع پر متعدد اہم ملاقاتیں کیں جن میں ڈیجیٹل تعاون، علاقائی کنیکٹیویٹی اور سمارٹ ڈویلپمنٹ ایجنڈے کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ انہوں نے آئی ٹی یو کی سیکرٹری جنرل دورین بوگڈن مارٹن سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان خطے کا سٹریٹجک ڈیجیٹل مرکز بن چکا ہے اور ملک آئی ٹی یو کے ریجنل آفس کے قیام کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے ’’سمارٹ ولیج پاکستان‘‘ پروگرام کو پاکستان اور آئی ٹی یو کے درمیان ایک مشترکہ کامیابی قرار دیتے ہوئے اس ماڈل کو ملک بھر میں توسیع دینے کے لیے آئی ٹی یو سے کثیرسالہ تعاون کی درخواست کی۔ شزا فاطمہ خواجہ نے زور دیا کہ سمارٹ ولیج ماڈل کا دائرہ کار ای ہیلتھ، ایجوکیشن اور ایگریکلچر ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں تک بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر کی ایران کے وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی ستار ہاشمی سے بھی اہم ملاقات ہوئی۔

دونوں وزراء نے صدر پاکستان کے حالیہ دورہ ایران کے دوران دستخط شدہ آئی ٹی و ٹیلی کام ایم او یو پر پیشرفت کا جائزہ لیا اور جوائنٹ ورکنگ گروپ اور آئی ٹی بزنس فورم کو تیزی سے فعال بنانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان-ایران فائبر آپٹک کنیکٹیویٹی کو جلد فعال کرنے کے لیے فوری تکنیکی رابطوں پر بھی زور دیا گیا۔

شزا فاطمہ خواجہ نے باکو میں ARB24 کو خصوصی انٹرویو بھی دیا جس میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں شمولیت اسی وقت ممکن ہے جب ہر ملک اور ہر کمیونٹی کو اس ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی حاصل ہو۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان وزیر اعظم شہباز شریف کے ’’ڈیجیٹل نیشن‘‘ وژن کے تحت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور عالمی اے آئی ایکوسسٹم میں فعال شراکت کے لیے پرعزم ہے۔ ڈبلیو ٹی ڈی سی کے دوران ہونے والی یہ ملاقاتیں پاکستان کی علاقائی و عالمی ڈیجیٹل قیادت کے مضبوط ہوتے کردار کی عکاس ہیں۔