وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت گلگت بلتستان سے متعلق وزیراعظم کی جائزہ کمیٹی کا اجلاس، پائیدار ترقی اور مالیاتی استحکام کے لیے اہم فیصلے

"وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر قائم گلگت بلتستان جائزہ کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔”

اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر قائم گلگت بلتستان جائزہ کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں گلگت بلتستان کے مالیاتی، انتظامی اور ترقیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مختلف شعبوں میں اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں گلگت بلتستان کی طویل المدتی مالیاتی پائیداری، پن بجلی کی ترقی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی حکمت عملی، ڈیجیٹل رابطہ کاری، عوامی خدمات کی فراہمی اور ترقیاتی ترجیحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کرکے وزیراعظم کو پیش کرے گی۔اجلاس میں گلگت بلتستان کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے اصولوں کی روشنی میں شفاف، منصفانہ اور پائیدار مالی وسائل کی تقسیم کے نظام کی تشکیل پر خصوصی توجہ دی گئی۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے این ایف سی طرز کے مالیاتی فریم ورک کی تیاری کی حمایت کرتے ہوئے اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ کمیٹی میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان، اٹارنی جنرل پاکستان، وزارت خارجہ، وزارت قانون و انصاف اور وزارت بین الصوبائی رابطہ کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی ایک ماہ کے اندر اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کے لیے گندم پر سبسڈی کا دیرینہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے اور وفاقی حکومت بدستور اس مد میں مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کے استحکام پیکیج کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ بتایا گیا کہ سال 2022 کے بعد وفاقی مالی معاونت میں 87 فیصد اضافہ کیا جا چکا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کے نمائندوں نے وفاقی حکومت کی مسلسل معاونت کو سراہا۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں 132.851 ارب روپے سے بڑھا کر مالی سال 2025-26 میں 150.4 ارب روپے اور رواں مالی سال 2026-27 میں مزید بڑھا کر 157.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو خطے کی ترقی کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔اجلاس میں گلگت بلتستان کے توانائی کے شعبے کو درپیش مسائل، بجلی کی قلت، طلب و رسد کے فرق، ترسیلی نظام کی کمزوری اور علاقائی گرڈ کے قیام سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے قومی گرڈ سے موثر ربط اور قومی توانائی اداروں میں گلگت بلتستان کی نمائندگی مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ریجنل گرڈ گلگت بلتستان فیز اول منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ 9.1 ارب روپے لاگت سے منظور ہونے والا یہ منصوبہ بجلی کی ترسیل کے نظام کو نمایاں طور پر بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان کے مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 100 میگاواٹ صلاحیت کے تقسیم شدہ شمسی توانائی منصوبوں کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے جن پر 24.9 ارب روپے لاگت آئے گی۔ ان منصوبوں کا مقصد خطے میں بجلی کے دیرینہ بحران کا موثر حل فراہم کرنا ہے۔احسن اقبال نے سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی جو گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے گی، ان کی بروقت تکمیل میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرے گی اور منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی لانے کے لیے قابل عمل سفارشات پیش کرے گی۔اجلاس میں گلگت بلتستان کے وسیع پن بجلی وسائل پر بھی غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ پاور ڈویژن اور وزارت آبی وسائل کی قیادت میں ایک علیحدہ کمیٹی قائم کی جائے جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پن بجلی منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کے لیے سفارشات مرتب کرے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ شدید مالی دبائو کے باوجود وفاقی حکومت ہر سال گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے مجموعی حجم میں کمی آئی ہے تاہم گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور ضم شدہ اضلاع کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وفاقی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گلگت بلتستان میں ادارہ جاتی اصلاحات، مالیاتی استحکام، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بہتر رابطہ کاری اور خطے کے قدرتی و معاشی وسائل کے موثر استعمال کے ذریعے پائیدار اور ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔