اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارر نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، ممتاز سیاستدان، محقق اور دانشور سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر عرفان صدیقی کا انتقال ناقابلِ تلافی علمی و فکری نقصان ہے، وہ جماعت کے روشن ضمیر اور سچے وفادار ساتھی تھے، ان کی تحریری بصیرت اور شفیق شخصیت …
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر اظہار افسوس، سینیٹر عرفان صدیقی ہماری جماعت کا روشن ضمیر اور سچے وفادار ساتھی تھے، ان کی تحریری بصیرت اور شفیق شخصیت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارر نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، ممتاز سیاستدان، محقق اور دانشور سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر عرفان صدیقی کا انتقال ناقابلِ تلافی علمی و فکری نقصان ہے، وہ جماعت کے روشن ضمیر اور سچے وفادار ساتھی تھے، ان کی تحریری بصیرت اور شفیق شخصیت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔منگل کو اپنے تعزیتی بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مرحوم کی زندگی علم، اخلاق اور خدمت سے عبارت تھی، وہ ہمارے لیے رہنمائی، محبت اور برداشت کی علامت تھے، قوم ہمیشہ ان کے علم و کردار کی روشنی سے فیض پاتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کی وفات بڑا علمی اور اخلاقی نقصان ہے، وہ علم و ادب کے روشن چراغ، وفادار ساتھی اور درویش مزاج رہنما تھے۔ ان کی شخصیت آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عرفان صدیقی صاحب کی شفیق مسکراہٹ، فکری گہرائی اور بردباری کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی، وہ سچے محبِ وطن اور ہماری جماعت کے لیے نے لوث خلوص رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی صاحب میرے دادا، سابق صدرِ پاکستان کے دیرینہ رفقا میں سے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر نے دل کو گہرے دکھ میں مبتلا کردیا ہے، ان کے اہل خانہ کا دکھ دراصل ہمارے خاندان کا دکھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی صاحب کی علم دوستی، شائستگی اور متانت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک ایسے بزرگ، استاد اور رفیقِ خاندان سے محروم ہوگئے ہیں جو ہمیشہ رہنمائی اور محبت کا پیکر رہے، ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ کبھی پُر نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے عرفان صدیقی کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم علم، وقار اور متانت کے پیکر تھے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔








