وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کی نجی ٹی وی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی) وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ بھارت مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کررہا ہے، پاکستان چپ نہیں رہے گا، ہر بین الاقوامی فورم پر بھارتی جارحیت کو بے نقاب کرے گا، بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان دنیا میں کشمیر کا مقدمہ لڑے، بھارت دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیرکی صورتحال سے ہٹانا چاہتا ہے اور وہ اس کوشش …

اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی) وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ بھارت مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کررہا ہے، پاکستان چپ نہیں رہے گا، ہر بین الاقوامی فورم پر بھارتی جارحیت کو بے نقاب کرے گا، بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان دنیا میں کشمیر کا مقدمہ لڑے، بھارت دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیرکی صورتحال سے ہٹانا چاہتا ہے اور وہ اس کوشش میں ناکام ہوگا، جارحیت کے باعث بھارت کی سٹاک مارکیٹ گرنا شروع ہوگئی ہے، جنگی جنون بھارت کے گلے میں ایک مصیبت کی طرح پڑجائے گا۔ جمعرات کو نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت نے جس جارحیت کو جاری رکھا ہوا ہے، یہ مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ہے جس کے نتیجے میں فوج کی دو قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے، پاکستان چپ نہیں رہے گا اور ہر بین الاقوامی فورم کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرے گا اور عوام کو بھی آگاہ کرتا رہے گا تاکہ بین الاقوامی اورسفارتی سطح پر بھارت کا حقیقی چہرہ پیش کیا جاسکے، دفاع کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وطن کے دفاع کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں، وطن کی طرف کوئی بھی میلی آنکھ سے دیکھے گا اس کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا اور کسی کو وطن میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان جارحیت کا حامی نہیں، ماضی میں بھی بھارت کی جانب سے حملوں میں پہل ہوئی جس کا پاکستانی فوج نے منہ توڑ جواب دیا، بھارت کا حقیقی مقصد پاکستان کو مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر بات کرنے اور اس مسئلہ کے حل کےلئے کوششوں سے روکنا ہے۔ انہون نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر کی وکالت کرتا رہے گا جب تک یہ مقدمہ حل نہیں ہو جاتا، پاکستان امن چاہتا ہے اور اس کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ وہ امن کے ساتھ ہی آگے بڑھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں کہا کہ کلبھوشن کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھایا گیا ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply