اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں اور طاقت کے استعمال کی طرف نہ جائیں، حکومت کی پہلی ذمہ داری بھی یہی ہے پرتشدد واقعات سے بچا جائے اور طاقت کا استعمال نہ کرنا پڑے لیکن دوسری جانب ہمیں اس بات کو بھی ذہن میں …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی وی چینل پروگرام میں بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں اور طاقت کے استعمال کی طرف نہ جائیں، حکومت کی پہلی ذمہ داری بھی یہی ہے پرتشدد واقعات سے بچا جائے اور طاقت کا استعمال نہ کرنا پڑے لیکن دوسری جانب ہمیں اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں جو لائحہ عمل دے دیا ہے اس سے پیچھے ہٹنا بھی ریاست کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔ جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہم نے اپوزیشن کی دو مرکزی جماعتوں کے ساتھ بھی مشاورت کی جس میں ان دونوں جماعتوں نے ہمیں اس بات کی پوری پوری یقین دہانی کرائی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جو ایجنڈا دیا ہے وہ بھی اس کے پیچھے کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملکی اداروں اور قوم میں مکمل اتفاق رائے موجود ہے اور طاقت کے استعمال سے گریز کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ یہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے جو یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ہمارا عالمی سطح پر یہ تاثر جائے کہ اس ملک کے اندرون گروپس ہی اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ ریاست ان سے نمٹ نہیں سکتی اس لیے بحثیت ایک شہری کے اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ اس طرح کے فسادات کو عالمی سطح پر اور نظروں سے بھی دیکھا جاتا ہے جو ملکی مفاد میں نہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کی یہ سوچ ہے کہ ریاست یا ہمارے ادارے ان معاملات سے نمٹ نہیں سکتے ، انہیں اپنی یہ غلط فہمی دور کرنی چاہیئے۔








