اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ دھرنوں اور مظاہرین سے نمٹنے کا کوئی مستقل حل تلاس کریں گے اور اسے روکیں گے، گزشتہ کئی سالوں سے جاری ان مسائل پر قابو پانے کے لیے حکومت بالکل درست سمت پر گامزن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ دھرنوں اور مظاہرین سے نمٹنے کا کوئی مستقل حل تلاس کریں گے اور اسے روکیں گے، گزشتہ کئی سالوں سے جاری ان مسائل پر قابو پانے کے لیے حکومت بالکل درست سمت پر گامزن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے ممالک کا اپنے مقامی معاملات کے حساب سے ایک مسئلہ ہے، بھارت ، جرمنی، امریکہ اور برطانیہ میں بھی انتہا پسندی کے مسائل موجود ہیں جن کا ہر ملک اپنے اپنے طریقے سے مقابلہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بھی شدت پسندی کی ایک تاریخ ہے جس کے مقابلے کے لیے ایک جامع سوچ چاہیئے، اداروں کی اصلاحات اور تعلیمی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ پولیس کے شعبے میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مقامی تھانہ اپنی مینجمنٹ خود کر سکے، اس کے علاوہ ایک جامع سوچ بھی چاہیئے تبھی نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد حاصل ہو سکیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے مظاہرین کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے وہ آئین و قانون کے مطابق ہے اس معاہدے میں کچھ بھی ایسا نہیں جو آئین سے باہر ہو جیسے کہ ریویو پٹیشن دائر کرنی ہے تو وہ آئینی حق ہے کیونکہ اگر کوئی ریویو پٹیشن دائر کرنا چاہتا ہے تو ہم تو اسے نہیں روک سکتے، اسی طرح اگر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نام ڈالنے کے لیے قانونی ضرورتیں پوری ہیں تو حکومت نام ضرور ڈالے گی لیکن قانونی ضرورتیں پوری کرنا ہمارا کام نہیں بلکہ متاثرہ فریقین کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دھرنا مظاہرین کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس کی شقوں کو دیکھیں تو یہ وہی آئینی حقوق ہیں جنہیں تسلیم کیا گیا ہے اس کے علاوہ باہر کی بات تو کوئی بھی نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ابھی صرف فائر فائٹنگ کی ہے کیونکہ شہر بند تھے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا تھا، شہر بند ہوں تو پھر ریاست کے پاس دو راستے ہوتے ہیں ، مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے یا ریاست اپنی طاقت استعمال کرے ۔








