لاہور۔11 نومبر(اے پی پی )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ نظریات کی لڑائی بندوق سے نہیں دلیل سے لڑی جاتی ہے ، المیہ ہے کہ انتشاوراوربدامنی پھیلانے والے دلیل سے عاری ہیں،پاکستان میں سیاسی نہیں بلکہ فکری بحران ہے،علم،آگہی سے پرامن اورترقی یافتہ معاشرہ تشکیل پاتاہے، ، مذہبی قیادت ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنانے کیلئے ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر چلے، مذہبی …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کا سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
لاہور۔11 نومبر(اے پی پی )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ نظریات کی لڑائی بندوق سے نہیں دلیل سے لڑی جاتی ہے ، المیہ ہے کہ انتشاوراوربدامنی پھیلانے والے دلیل سے عاری ہیں،پاکستان میں سیاسی نہیں بلکہ فکری بحران ہے،علم،آگہی سے پرامن اورترقی یافتہ معاشرہ تشکیل پاتاہے، ، مذہبی قیادت ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنانے کیلئے ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر چلے، مذہبی و دینی قیادت اور سول سوسائٹی کو نظریاتی جنگ کی اونر شپ لینا ہو گی،ہمارا ایمان ہے جسے سرور کونین محمد مصطفی سے عشق نہیں وہ مومن ہی نہیں‘ عمران خان سچے عاشق رسول ہیں‘ جنہوں نے کبھی مدینہ کی مبارک سرزمین پر جوتے پہن کر قدم نہیں رکھا، وزیر اعظم نے مدارس میں پڑھنے والے بچوں کےلئے بھی آواز اٹھائی، پاکستان میں سرکاری سطح پر پہلی مرتبہ ربیع الاول منایا جارہا ہے۔ وہ اتوار کے روز پاکستان جرنلسٹ فاﺅنڈےشن کے زےر اہتمام یہاں مقامی ہوٹل میں ” عدم برداشت کا رجحان اور رےاست کی ذمہ دارےاں“ کے عنوان پرمنعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے‘ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ کچھ طبقوں نے دلیل کی بجائے بندوق کے زور پر اپنی رائے مسلط کرنے کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے جو کہتے ہیں کہ پاکستان کو بند کر دیں گے کیونکہ وہ مذہب کے نام پر سیاست کر تے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کا افغانستان پر قبضہ ہو یا نائن الیون کا واقعہ‘ اس کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ امریکہ نے پاکستان سے پوچھ کر افغانستان پر حملہ نہیں کیا تھا لیکن اس کے اثرات ہمیں برداشت کرنے پڑ رہے ہیں‘ غیر روایتی جنگ میں ہماری فکری سوچ ماند پڑ گئی ہے جسے مذہبی طبقوں کے تعاون کے ساتھ دلیل کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔








