اسلام آباد ۔ 25 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیرین مزاری نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مختلف ممالک پر اقتصادی اور ملٹری طریقوں سے عائد اسٹریٹجک پابندیوں کی بین الا اقوامی قوانین میں کوئی حیثیت نہیں، چاہے وہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو توڑنا ہو یا بین الاقوامی معاہدوں (جیسے پیرس کا معاہدہ) سے پیچھے ہٹنا ہو۔ وہ ان خیالات کا …
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیرین مزاری کا ایس ڈی پی آئی کے زیرِ اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیرین مزاری نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مختلف ممالک پر اقتصادی اور ملٹری طریقوں سے عائد اسٹریٹجک پابندیوں کی بین الا اقوامی قوانین میں کوئی حیثیت نہیں، چاہے وہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو توڑنا ہو یا بین الاقوامی معاہدوں (جیسے پیرس کا معاہدہ) سے پیچھے ہٹنا ہو۔ وہ ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام ‘گرِے ہائبرڈ تنازعات میں سختی کی حکمتِ عملی اور پاکستان کے لیے آگے کا راستہ’ کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار میں کر رہی تھی۔ اس موقع پر خارجہ امور کی پارلیمانی سیکریٹری عندلیب عباس، ریاض فتیانہ، ڈاکٹر عابد قیوی سلہری، ڈاکٹر ماریہ سلطان، ڈاکٹر ضیا القیوم، ڈاکٹر ظفراقبال، رانا اطہر جاوید اور خالد جمیل نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر شیرین مزاری نے کہا کہ ہائبرڈ جنگ کے نئے طریقوں سے نمٹنے کے لئے ہماری ریاست اور حکومت کو سچ پر ثابت قدم رہنا چاہیے اور دنیا کو اپنے بیانیے پر یقین دہانی کرانے کے لیے اپنے لوگوں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں سینسر شپ کا کوئی تصور نہیں ہوتا، اگر میڈیا جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے تو پیمرا اور دیگر متعلقہ اداروں کو اسکا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ففتھ جنریشن وار کا تصور نیا نہیں، ہایبرڈ وار دنیا بھر میں جاری ہے اور اس کے لیے مختلف اسٹریٹیجز اور ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں، پہلی جنگ عظیم کے بعد فوجوں کے آمنے سامنے آ کے لڑنے کا تصور تقریبا ختم ہو گیا ہے۔ دنیا کا ہر ملک اپنے مفادات کے لیے سوشل میڈیا اور سویلینز کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے، آپکا پیغام سچ پر مبنی ہو گا تو لوگوں پر اثر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بجائے اس کے موثر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ خارجہ امور کی پارلیمانی سیکرٹری عندلیب عباس نے کہا کہ پلوامہ اور بالا کوٹ کے واقعہ کے بعد تاریخ میں پہلی بار پاکستان نے بھارتی جھوٹ اور پروپیگنڈا کو مؤثر طریقے سے بے نقاب کر کے ہائبرڈ جنگ میں فتح حاصل کی۔ انہوں نے ملک کے مثبت امیج کے لیے موسیقی اور فلم کی صنعت کے ذریعے ثقافتی ڈپلومیسی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوی سلہری نے کہا کہ پائیدار ترقی کے حصول کے لئے ہائبرڈ جنگ کا مقابلہ ضروری ہے، کیونکہ اس کا براہ راست تعلق پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جییز) کے ساتھ ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ لوگوں کی ہائبرڈ جنگ سے آگاہی اور اس کے مقابلے کی تیاری کے لیے معاشرے میں سوچنے اور تجزیہ کرنے کے رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین نیشنل اسمبلی اسٹینڈنگ کمیٹی لاء اینڈ جسٹس ریاض فتیانہ نے کہا کہ ہم ہائبرڈ جنگ کے باعث مشرقی پاکستان سے محروم ہو گئے تھے اور تب سے ہمارے دشمن مختلف طریقوں سے ہمارے معاشرے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لئے پارلیمان میں اچھے تعلقات کو فروغ دیں۔








