اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ زینب الرٹ بل جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ، وفاقی حکومت بچوں پر تشدد کی روک تھام اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بین الاقوامی انسانی اور بچوں کے حقوق کے دن …
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ زینب الرٹ بل جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ، وفاقی حکومت بچوں پر تشدد کی روک تھام اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بین الاقوامی انسانی اور بچوں کے حقوق کے دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے پہلے اجلاس میں بچوں پر تشدد کا معاملہ اٹھایا اور بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کو صحت و تعلیم کی فراہمی کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آفس میں خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے جس میں بچوں کے اغواء سے متعلق شکایت درج کرائی جا سکتی ہے، بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق زینب الرٹ بل تیار ہے اسے جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں پر تشدد کی روک تھام اور حقوق کے تحفظ کے قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، معاشرہ میں بچوں کے حقوق سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اس حوالہ سے ہمیں معاشرہ کی سوچ تبدیل کرنا ضروری ہے، بچے ہمارا مستقبل اور ملک کا اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بچوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، بچوں کو اغواء کیا جا رہا ہے، پیلٹ گنز سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارت نے بھی بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں تاہم اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت بچوں پر ظلم و بربریت ڈھا رہی ہے، بھارت کے سٹیزن شپ بل سے بھی بچوں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی پناہ گزین اور غریب بچوں پر تشدد کیا جاتا ہے، ہم پر انگلی اٹھانے والوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ ماں کے حقوق کے تحفظ سے جڑا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری برائے انسانی حقوق رابعہ جویری آغا نے وزارت کی جانب سے بچوں پر تشدد کی روک تھام اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے حوالہ سے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ یونیسیف کی نمائندہ عیدہ جرمہ میلاکو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 20 نومبر 1999ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کنونشن کو منظور کیا گیا، اس کنونشن کا مقصد بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قانون سازی کو بہتر بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں بچے غربت اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں، پاکستان اس کنونشن کی توثیق کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل ہے، پاکستان کو خوراک کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے، سکول سے باہر بچوں کو رسمی اور غیر رسمی طریقوں سے تعلیم کی فراہمی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائلد پروٹیکشن سسٹم میں بہتری کی ضرورت ہے، آج بچوں کے حقوق سے متعلق کئے گئے عزم کے اعادہ کا دن ہے۔ انہوں نے بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق حکومت پاکستان کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیسف اس حوالہ سے پاکستان سے مکمل تعاون کرے گا۔








