وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت صوبائی وزرائ، چیئرمین ٹیوٹاز اور نیوٹیک اعلیٰ حکام کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 24 جون (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے ٹیکنیکل اور پیشہ وارانہ تربیتی اداروں کو بتدریج کھولنے کی حکمت عملی پر صوبائی وزرائ، چیئرمین ٹیوٹاز اور نیوٹیک اعلیٰ حکام کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ وفاقی وزیر نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے ہدایات جاری ہوئی ہیں کہ انڈسٹریل سیکٹر کے کھلنے کے …

اسلام آباد ۔ 24 جون (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے ٹیکنیکل اور پیشہ وارانہ تربیتی اداروں کو بتدریج کھولنے کی حکمت عملی پر صوبائی وزرائ، چیئرمین ٹیوٹاز اور نیوٹیک اعلیٰ حکام کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ وفاقی وزیر نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے ہدایات جاری ہوئی ہیں کہ انڈسٹریل سیکٹر کے کھلنے کے بعد ٹیکنیکل اور پیشہ وارانہ تربیتی اداروں کے کھولنے پر ایک یکساں پالیسی مرتب کی جائے۔ وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ ملک بھر کے ٹیکنیکل اور پیشہ وارانہ تربیت کے ادارے دو حصوں میں منقسم ہیں۔ پہلی قسم وہ ہے جو فیکٹریز میں براہ راست تربیت مہیا کرتے ہیں پس ان اداروں کو پہلے کھولا جا سکتا ہے جبکہ دوسری قسم کے تربیتی ادارے وہ ہیں جو کلاس رومز میں تربیت مہیا کرتے ہیں ان کو دوسرے مرحلہ میں کھولا جا سکتا ہے۔ اس مسئلہ پر تمام صوبوں اور اکائیوں نے اپنی اپنی آراءپیش کیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر انڈسٹری پنجاب میاں اسلم اقبال نے فورم کو بتایا کہ جن تربیتی اداروں کی عمارات کرائے پر تھیں وہ اس وباءکی وجہ سے بہت مالی اور انتظامی مشکلات کا شکار ہیں، پنجاب میں انڈسٹری ساری کھل چکی ہے اور کافی جگہوں پر لیبر کی کمی کا سامنا ہے تاہم وفاق جو رہنما پالیسی وضع کرے گا پنجاب حکومت اس پر من و عن عمل کرے گی۔ چیئرمین ٹیوٹا پنجاب نے کہا وباءکے پھیلاو¿ کے پیش نظر تربیتی اداروں کہ اوپننگ کو ستمبر تک مو¿خر کیا جائے۔ بلوچستان نے کہا کچھ ادارے 15 جولائی تک اور باقی ستمبر میں کھولے جا سکتے ہیں۔ سندھ نے اداروں کو متبادل دنوں پر کھولنے کی تجویز دی۔ کے پی کے وہ ادارے جو پاکستان ایئر فورس کے ماتحت تربیت مہیا کر رہے ہیں، نے وفاقی وزیر سے کہا کہ وہ فوراً اپنے ادارے کو ایس او پیز کے تحت کھولنے کی پوزیشن میں ہیں تاہم وفاق سے پالیسی جا ری ہونے کے منتظر ہیں۔ وفاقی وزیر شفقت محمود نے تمام صوبوں اور اکائیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی اپنی آراءتین روز کے اندر وفاقی وزارت تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت کو بھجوائیں۔ تمام آراءکی روشنی میں جو روڈ میپ تیار ہو گا اس پر وفاقی وزیر تعلیم وزیراعظم پاکستان کو رپورٹ پیش کریں گے جس کے بعد ایک سمری این سی او سی کو منظوری کےلئے پیش کی جائے گی۔ وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ پچھلے 100 سال میں ایسی وباءکا سامنا نہیں ہوا، ہم تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں اور ان غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ معیشت، صحت، تعلیم و تربیت سب کو یکساں طریقے سے لے کر آگے بڑھ سکیں۔

مزید خبریں