وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود کا سیکٹر سکلز کونسل برائے متبادل توانائی کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 20 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ سیکٹر سکلز کونسل کا قیام ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سیکٹر کی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور عین حکومتی نقطہ نظر کے مطابق ہے اور امید کی جاتی ہے کہ نیشنل سکل سٹریٹیجی فار آل کی روشنی میں پبلک۔ پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فروغ …

اسلام آباد ۔ 20 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ سیکٹر سکلز کونسل کا قیام ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سیکٹر کی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور عین حکومتی نقطہ نظر کے مطابق ہے اور امید کی جاتی ہے کہ نیشنل سکل سٹریٹیجی فار آل کی روشنی میں پبلک۔ پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فروغ میں مددگار ثابت ہو گا۔ صنعت سے متعلقہ کونسل کا قیام روزگار مارکیٹ کی ضروریات، معیار کی ترتیب، نصاب کی تشکیل اور صنعت کی روز بروز کی بدلتی ضروریات کو مکمل کرنے میں مدد گار ثابت ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیکٹر سکلز کونسل برائے متبادل توانائی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم نے تقریب سے خطاب کے دوران پاکستان میں پیشہ ورانہ امور کی تربیت کی ضرورت کے امر پر زور دیا۔ انہوں نے کہا پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت موجودہ حکومت کی اولین ترجیح میںشامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سولر انرجی کی افادیت سے بھر پور فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے اور آنے والے 5 سے10 سالوں میں ہر گھر اپنی توانائی کی ضروریات میں خود کفیل ہو گا۔ جدید ٹیکنالوجی کا ملک فروغ ہونے سے ہمیں ملک میں مزید ہنر مند نوجوانوں کی ضرورت ہو گی اور اس امر کے لئے ضروری ہے کہ خواتین کو کام کے یکساں مواقع فراہم کے جائیں تا کہ وہ بھی ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ سیکٹر سکلز ڈویلپمنٹ ملک میں اپرنٹس شپس کے فروغ اور ترقی کیلئے اہم کردار ادا کرسکتی ہے جو کہ روزگار کے مواقعوں کے فروغ کے لئے حکومتی نقطہ نظر کی عکاس ہے۔ یورپین مشن کی ڈپٹی ہیڈ مس اینے مارشل نے 2011 سے ٹیکنکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس کی اصلاحات کے عمل اور ٹیوٹ سیکٹر کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کے امر کو سراہا اور اسے پاکستان میں ہنر مند افرادی قوت کے حصول میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ پاکستان میں ناروے کے سفیر جناب کیجل گنر اریکسن نے نجی شعبے کو ٹیوٹ سیکٹر میں شامل کرنے کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ نجی شعبہ ہنر مند افرادی قوت کے حصول کیلئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انرجی کے متبادل ذرائع کی بڑی بڑی ایسوسی ایشنز جیسے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پی اے)، رینیو ایبل انرجی ایسوسی ایشن آف پاکستان (آر ای اے پی)، سولر کوالٹی فاﺅنڈیشن (ایس کیو ایف) اور انرجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے کاروباری حضرات، ڈپلومیٹس، ترقی کے شعبے کے نمائندگان نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ چیئرمین نیوٹیک سید جاوید حسین نے شرکاءسے خطاب میں کہا کہ سکلز کونسل کا قیام نہ صرف عوامی اور نجی شعبے کے مابین فرق کو کم کریگا، پالیسی میں بہتری لائیگا اورہنر مند افرادی قوت مہیا کریگا بلکہ صنعت کے لئے بھی سود مند ثابت ہو گا۔ سیکٹر سکلز کونسل کی اہمیت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک جیسے یو کے، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور جرمنی جیسے ممالک میں سیکٹر سکلز کونسل سے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں اور امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں بھی سکلز کونسل ٹی ویٹ سیکٹر کے فروغ کے لئے اہم کردار ادا کرسکتی ہیں جو صنعت کے لے بھی فائدہ مند ثابت ہونگی۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر خان نے کہا کہ انرجی کے شعبے میں سیکٹر سکل کونسل کا قیام پبلک۔ پرائیویٹ سیکٹر میں ہنر مندی کے معیار، پیشہ وارانہ فرق، پہلے سے سیکھنے کی اہمیت، تربیت، تجربہ، اساتذہ کی تربیت اور آن جاب ٹریننگ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کامیاب ٹی ویٹ سسٹم کیلئے ضروری ہے کہ صنعتی شعبے اپنی ذمہ داری لیں اور نیوٹیک نے ہنر مند افرادی قوت کے حصول کیلئے صنعت کی بھر پورشمولیت کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا صنعت سے متعلق سنٹر آف ایکسیلنس کا قیام بھی عمل میں لائیں گے تا کہ نیشنل سکلز سٹریٹجی فار آل کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہو ا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ووکیشنل کوالیفکیشن فریم ورک کے ذریعے معیارکو یقینی بنایا جائیگا اور تربیت گاہوں کی تنطیمی اصلاحات کو رجسٹریشن اور تصدیق کے عمل کے ذریعے معیاری بنایا جائیگا۔ ڈیڑھ سال کے عرصہ کے دوران تین سیکٹر سکلز کونسل برائے مہمانوازی، ٹیکسٹائل اور کنسٹرکشن کا قیام عمل میں آیا اور ایس ایس سی ۔ رینیو ایبل انرجی اس لسٹ میں چوتھی سکل کونسل ہے۔ ایس ایس سی ۔ آر ای ایک میکانزم کے طور پر کام کر یگی اور تربیت میں آجر کے کردار کو عوامی فلاحی منصوبوں میں شامل کریگی تا کہ معیاری تربیت کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔ ایس ایس سی ۔ آر ای کی تین بنیادی فنگشنز ہیں جیسا کہ انرجی سیکٹر کی میپنگ، لیبر مارکیٹ کا تجزیہ اور نصاب کی تیاری اور آن جاب ٹریننگ کے ذریعے روزگار کے مواقعوں کا فروغ شامل ہیں۔ ان بنیاد ی مقاصد کے حصول کیلئے کونسل کو توانائی سے متعلقہ پرائیویٹ سیکٹر سے بھر پور نمائندگی حاصل ہے اور امید کی جاتی ہے کہ کونسل نہ صرف ہنر مند افرادی قوت کے حصول کے لئے بنیاد ضروریات کو اجاگر کر پائے گی بلکہ پرائیویٹ سیکٹر کو نصاب کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگی تاکہ صنعتی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے افرادی قوت کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبریں

Leave a Reply