لاہور۔12 جنوری(اے پی پی )وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کو معاملات پر مختلف رائے رکھنے کا حق ہے، اسد عمر کی قیادت میں وفد ایم کیو ایم سے ملاقات کرے گا، سیاسی جماعت کی حیثیت سے ان کا مطالبہ جائز ہے، حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ۔وہ الحمراء ہال کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا …
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
لاہور۔12 جنوری(اے پی پی )وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کو معاملات پر مختلف رائے رکھنے کا حق ہے، اسد عمر کی قیادت میں وفد ایم کیو ایم سے ملاقات کرے گا، سیاسی جماعت کی حیثیت سے ان کا مطالبہ جائز ہے، حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ۔وہ الحمراء ہال کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی ہمارے دوست اور بھائی ہیں، سیاسی جماعتوں میں گلے شکوے ہوتے ہیں، سیاسی جماعتوں کے اپنے موقف اور اپنا ووٹ بینک ہوتا ہے، سیاسی جماعت کی حیثیت سے ان کا مطالبہ جائز ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت میں ایم کیو ایم ہماری اتحادی ہے، ایم کیو ایم کو معاملات پر مختلف رائے رکھنے کا حق ہے، اسد عمر کی قیادت میں وفد ایم کیو ایم سے ملاقات کرے گا انشاء اللہ یہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہوجائے گا۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ملک میں عمران خان کے مقابلے میں کوئی سیاسی لیڈر نہیں، بلاول بھٹو کی ایم کیو ایم کو پیشکش غیر سنجیدہ تھی، ایم کیو ایم بھی باشعور جماعت ہے وہ سب سمجھتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے لیے تو تلاش گمشدہ کا اشتہار چھپوانے کی ضرورت ہے، نواز شریف کو باہر بھجواتے بھجواتے شہباز شریف خود بھی باہر چلے گئے، شہباز شریف کی اپنی کرسی کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف و دیگر کی ان کی نشست پر نظر ہے، اب دیکھنا یہ ہے ن لیگ اپنے اندرونی اختلافات پر کیسے قابو پاتی ہے اور انہیں اندرونی معاملات کے حل کیلئے کتنا وقت لگتا ہے، اپوزیشن کا ہر رہنما وزیر اعظم بننے کے چکر میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے احتجاجاً وزارت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میرا اب کابینہ میں بیٹھنا بے سود ہے تاہم حکومت سے تعاون مسلسل جاری رہے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی کی آبادی 3 کروڑ ہے، حکومت کے مطابق کراچی نے 89 فیصد ٹیکس دیا ہے، تمام ناانصافیوں کے باوجود کراچی 65 فیصد ریونیو دے رہا ہے، کراچی 89 فیصد ٹیکس دے رہا ہے تو پورا پاکستان کیا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ،اسد عمر کی قیادت میں وفد ایم کیو ایم سے ملاقات کرے گا ، اتحادیوں میں گلے شکوے چلتے رہتے ہیں تحفظات دور کریں گے۔








