وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری کا سنٹر آف پاکستان اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیر اہتمام کانفرنس سے خطاب، میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لئے ملک کے مختلف شہروں میںبائیو ٹیکنالوجی اور سائنس وٹیکنالوجی پارکس بنا رہے ہیں، ایسا فریم ورک لانا چاہتے ہیں جو سانئسدانوں اور سٹوڈنٹس کے لئے مددگا ثابت ہو، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے قومی اسمبلی میں …

اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لئے ملک کے مختلف شہروں میںبائیو ٹیکنالوجی اور سائنس وٹیکنالوجی پارکس بنا رہے ہیں، ایسا فریم ورک لانا چاہتے ہیں جو سانئسدانوں اور سٹوڈنٹس کے لئے مددگا ثابت ہو، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے قومی اسمبلی میں لائے گئے بل پر اپوزیشن کے حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ملک کی ترقی کے لئے اپوزیشن اور حکومت کو ملکر کام کرنا ہوگا، مسلم لیگ (ن) کا سربراہ بننے کے میاں شہاز شریف اور خواجہ آصف آپس میں ٹاس کرا لیں۔ ان خیالات کا انہوں نے جمعرات کو سنٹر آف پاکستان اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیر اہتمام ”قومی سلامتی اور ہائبرڈ جنگ ” کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ قومیں ایک ہی شعبے میں ترقی کر کے سپر پاور نہیں بن سکتیں جس نے آگے بڑھنا ہے اسے تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا ہوگا۔ اس حوالے سے امریکہ کی مثال ہم سب کے سامنے ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سپیس مشن پر جانے کی بات کریں تو لوگ یقین نہیں کرتے ہم خلاءمیں بھی جا سکتے ہیں کیونکہ ہم زمانے کی رفتار کے ساتھ نہیں چلے، حالانکہ 60ءکی دہائی میں ہم اس شبعہ میں خطہ کے دیگر ممالک سے آگے تھے،70 ءکی دہائی میں پاکستان دولخت ہو گیا اور 80ءکی دہائی میں اس وقت کے حکمران نے مدارس پر توجہ دی مگر آکسفورڈ اور کیمبریج جیسی یونیورسٹیاں نہیں بن سکے جس کی وجہ سے آج ہم پیچھے رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان جے ایف تھنڈر تو بنا سکتا ہے مگر ٹی وی نہیں بنا سکتا، ٹینک تو بنا سکتا ہے مگر موبائل چارجر نہیں بنا سکتا ، ہمیں نئی نسل میں ٹینکنالوجی کو عام کرنا ہے اس مقصد کے لئے اسلام آباد میں بائیو ٹیکنالوجی اورملک مختلف شہروں میں سائنس وٹیکنالوجی پارکس بنا رہے ہیں اور ایسا فریم ورک لانا چاہتے ہیں جو سانئس دانوں اور سٹوڈنٹس کے لئے مددگا ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان پارکس میں کام کرنے والوں کو کسٹم اور ٹیکس فری سہولیات دی جائیں تاکہ ہم کھویا ہوا مقام حاصل کرسکیں۔ انہوںنے کہا کہ دنیا میں جس تیزی سے ٹیکنالوجی آرہی ہیں ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی نوجوان نسل کو تیار کرنا ہوگا اس کے ساتھ ہمیں زراعت کے شعبے کو بھی جدید ٹینکنالوجی سے آراستہ کرنا ہے ۔انہوں کہا کہ 5 جی ٹیکنالوجی انٹرنیٹ کے آنے ملک ایک نیا انقلاب آئے گا اور یہ بات بھی درست ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے آنے ایک شعبے میں روز گا ختم ہو رہا ہوتا ہے تو دوسرے شعبے میں روز گار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ہماری وزارت تین سال کے دوران ایسا فریم ورک تیار کررہی جس سے سائنس و ٹیکنالوجی اور آئی ٹی میں بہتر تبدیلی لائی جاسکے گی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر قومی اسمبلی میں لائے جانے بل اپوزیشن نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہم ان کے اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ فوج صرف پی ٹی آئی کی نہیں بلکہ پورے ملک کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے اپوزیشن اور حکومت کو ملکر کام کرنا ہو گا۔ الیکشن کمیشن اور نیب قوانین پر بھی ہمارے اپوزیشن سے معاملات اچھی سمت میں چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک استحکام کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سنا ہے خواجہ آصف وزیراعظم بننا چاہتے ہیں، شہباز شریف اور خواجہ آصف پارٹی کا سربراہ بننے کے لئے آپس میں ٹاس کرالیں۔اس موقع پر وزیر اعظم کی ٹاسک فورس برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر عطا ءالرحمان نے کہا کہ دنیا میں اس وقت ٹیکنالوجی تیزی سے آرہی ہے جس کامقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنی نئی نسل کو تیارکرنا ہے کیونکہ ترقی کے لئے درست سمت کامتعین ہونا لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سنگا پور دنیامیں تیزی سے ترقی کرتاہوا ملک ہے کیونکہ انہوں نے کم آبادی کے باوجود بروقت درست سمت میں فیصلہ کیا اور آج وہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں اپنا مقام رکھتا ہے۔قبل ازیں سکیورٹی اور سائبر ورفیئر کے موضوع پر مباحثہ بھی کرایا گیا جس میں سابق ڈی جی ایف آئی اے عمار جعفری، دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) خالد نعیم لودھی، ڈی جی ایس ٹی آئی مختار پارس، ڈاکٹر خرم خورشید اور ایچ ای سی کے ڈی جی نے حصہ لیا۔ تقریب سے ڈاکٹر ظفر جسپال، ڈاکٹر عابد بلوچ اور آمنہ ملک نے بھی خطاب کیا۔