اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان جلد کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس اور این 95 ماسک کمرشل سطح پر تیار کرنا شروع کر دے گا، وزارت کے تحت پاکستان میں طبی ساز و سامان بڑے پیمانے پر تیار کیا جارہا ہے۔ پیر کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا …
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی چینل سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان جلد کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس اور این 95 ماسک کمرشل سطح پر تیار کرنا شروع کر دے گا، وزارت کے تحت پاکستان میں طبی ساز و سامان بڑے پیمانے پر تیار کیا جارہا ہے۔ پیر کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص 26 فروری کو ہوئی تھی اور اس وقت پاکستان وہ میڈیکل ساز وسامان تیار نہیں کرر ہا تھا جو کورونا وائرس کے علاج کے دوران درکار ہوتا ہے۔ ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت سائنس نے ان اداروں سے رابطہ کیا جو سینیٹائزر میں استعمال ہونے والا خام مال ایتھینول برآمد کر رہے تھے جس کے بعد ملک میں سینیٹائزر بنانے کا کام شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا اب ملک میں ہینڈ سینیٹائزر، جراثیم کش سپرے، اور آپریشن تھیٹرز میں استعمال ہونے وال جراثیم کش مواد ا وافر مقدار میں تیار کیا جارہا ہے۔ کورونا ٹیسٹنگ کٹس کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں بنائی گئی ٹیسٹنگ کٹس کو ساٹھ افراد پر ٹیسٹ کیا گیا تھا ان میں سے 90 فیصد تنائج آئے۔ ان ٹیسٹنگ کٹس کو بنانے کے لیے ایسے خام مال کی ضرورت تھی جسے چین سے آنے میں تاخیر ہوئی لیکن اب وہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین مئی سے پاکستان کی تیار کردہ کورونا ٹیسٹ کٹس کا تجربہ این آئی ایچ میں شروع کر دیا گیا ہے۔ پانچ سو ٹیسٹ مزید کیے جائیں گے جس کے بعد اسے کمرشل سطح پر بنایا جائے گا۔چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پاکستان میں وینٹیلیٹرز کی کمی نہیں ہے۔ حکومت کے پاس 270 وینٹیلیٹرز موجود ہیں اور پرائیویٹ اداروں کے پاس بھی وینٹیلیٹرز دستیاب ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان انجیئنرنگ کونسل کی جانب سے وینٹیلیٹرز بنانے کے 58 تجاویز موسول ہوئی تھیں۔ ان میں سے 13 ڈیزائنز شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں جبکہ سات ڈیزائنز کی منظوری دی گئی ہے جن کی تیاری کا کام جاری ہے جوجلد ہسپتالوں کو فراہم کر دیے جائیں گے۔








