وفاقی وزیر برائے قومی غذائی و تحقیق سید فخر امام کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 3 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ کارٹیلائزیشن کی نشاندہی کرنا صوبوں کی ذمہ داری ہے،صوبوں کو چاہیے کے کارٹلز ختم کریں گندم کی زخیرہ اندوزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا،طلب اور رسد کے فرق کو ختم کرنے کے لیے گندم درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے …

اسلام آباد ۔ 3 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ کارٹیلائزیشن کی نشاندہی کرنا صوبوں کی ذمہ داری ہے،صوبوں کو چاہیے کے کارٹلز ختم کریں گندم کی زخیرہ اندوزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا،طلب اور رسد کے فرق کو ختم کرنے کے لیے گندم درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کے گندم ہماری خوراک کا اہم حصہ ہے۔پاکستان گندم پیدا کرنے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے،ذخیرہ اندوزی اوراسمگلنگ قلت پیدا کرنے کے طریقہ کار ہیں ملک میں کارٹیلائزیشن اور ذخیرہ اندوزی ہے انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی سندھ حکومت گندم کا بحران کیوں پیدا کرنا چاہتی ہے۔ملک میں ہدف سے زیادہ گندم کی پیداوار ہوئی ہے انہوں نے کہا کے سندھ حکومت گندم ریلیزکر دے تو قیمت کافی کم ہوجائے گی۔وفاق اور صوبے بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ گندم اور آٹے کی کوئی شکایت نہ آے۔عام آدمی کو صحیح قیمت پر گندم مہیا کی جائے گی۔انہوں نے کہا کے سندھ سے گزارش ہے کہ گندم ریلیز کرے اس سلسلے میِں حکومت سندھ کو 2 خطوط لکھے۔1.25 ملین ٹن گندم سندھ میں سرکاری شعبہ نے خریدی ہے۔سید فخر امام نے کہا کہ ہم کاٹلز کے حق میں نہیں۔صوبوں کو چاہیے کہ کارٹلز کو ختم کریں۔انہوں نے کہا کے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق عوام کیلئے سستی قیمت پر اچھے معیار کی گندم کو یقینی بنارہی ہے۔طلب اور رسد کے فرق کو ختم کرنے کے لیے گندم درآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔گندم کی ذخیرہ اندوزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کے پنجاب نے گندم ریلیز کرنا شروع کردی ہے۔سید فخر امام نے کہا کہ ملک میں گندم کی آسانی سے فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے تمام صوبے ایک دوسرے اور وفاقی وزارت کے ساتھ تعاون کر یں۔وفاقی وزارت، نجی شعبے کے درآمد کنندگان کو گندم کی مناسب اور بروقت درآمد کو یقینی بنانے کے لئے سہولیات فراہم کررہی ہے اس موقع پر سیکٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق،عمر حمید خان کا کہنا تھا کہ 25 اگست تک درآمد شدہ گندم کے جہاز پاکستان پہنچ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ1ملین ٹن گندم درآمد کی جا رہی ہے۔اسکے علاوہ ٹی سی پی بھی 1.5 سے 2ملین گندم درآمد کر سکتا ہے۔

مزید خبریں