وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کچھی سے سری لنکا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان ریئر ایڈمرل (ر) فریڈ سینی ورتھنے نے جمعرات کو ملاقات کی۔
وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ اورنگزیب خان کچھی سے سری لنکا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان کی ملاقات
اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کچھی سے سری لنکا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان ریئر ایڈمرل (ر) فریڈ سینی ورتھنے نے جمعرات کو ملاقات کی۔ ملاقات میں ثقافتی تعاون، ورثے کے تحفظ، مذہبی سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سری لنکن ہائی کمشنر کے ہمراہ سری لنکا کے ممتاز بدھ راہب، موسٹ وینیریبل تھیبو بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سری لنکن بھائیوں اور بہنوں بالخصوص بدھ برادری کے لئے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں تاکہ وہ پاکستان کے تاریخی بدھ ورثے اور مقدس مقامات کا دورہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مذہبی اور ثقافتی سیاحت کے فروغ کے لئے بھرپور اقدامات کر رہا ہے خصوصاً ان ممالک کے لئے جن کے گندھارا تہذیب سے تاریخی اور روحانی روابط موجود ہیں۔ریئر ایڈمرل (ر) فریڈ سینی ورتھنے نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے لئے یہ اعزاز کی بات ہوگی کہ ان کی تعیناتی کے دوران پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات مزید مضبوط ہوں اور بدھ برادری کے لئے نئے مواقع پیدا کئے جائیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سری لنکا پاکستان کے لئے ایک آزمودہ اور قابلِ قدر دوست ملک ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط تعلقات کا حقیقی استحکام عوامی رابطوں سے ہی ممکن ہے۔موسٹ وینیریبل تھیبو نے بدھ ورثے کے تحفظ کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور گندھارا تہذیب کے تاریخی مقامات کی حفاظت کو ایک قابلِ تحسین اقدام قرار دیا۔وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ پاکستان اس مشترکہ ورثے کے تحفظ، بحالی اور عالمی سطح پر فروغ کے لئے مزید اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکن حکومت اور ماہرین کی تجاویز کا بھی خیرمقدم کیا جائے گا تاکہ تحفظ اور بحالی کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ملاقات کے دوران اسلام آباد میں ’’گندھارا کارنر‘‘کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جہاں گندھارا نوادرات کو محفوظ اور نمائش کے لئے پیش کیا جائے گا۔ دونوں جانب سے اسے مشترکہ ثقافتی تاریخ کے فروغ کے لئے اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ گندھارا تہذیب اس خطے کی ایک منفرد شناخت ہے اور پاکستان کے لئے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے بدھ اکثریتی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں جنہیں ترجیحی بنیادوں پر مزید فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہماری ثقافتیں مختلف ہو سکتی ہیں مگر ہمارا خطہ مشترک ہے اور ورثے کے تحفظ کے لئے اجتماعی کوششیں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہیں۔موسٹ وینیریبل تھیبو نے پاکستان کے دورے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا میں پاکستان کی گندھارا ورثے کے تحفظ کے لئے کی جانے والی کوششوں سے متعلق مزید آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے وفد کو گندھارا تہذیب کے تحفظ کے لئے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی کی قیادت میں پاکستان تقریباً ایک ہزار نوادرات اٹلی سے واپس لانے میں کامیاب ہوا ہے جبکہ آسٹریلیا سے مزید ہزاروں نوادرات کی واپسی کے لئے کوششیں جاری ہیں۔وفد کو پاکستان کے بدھ ورثے سے متعلق اہم مقامات، بشمول ٹیکسلا، تخت بھائی، وادیِ سوات، تھل اور دیگر تاریخی مقامات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جنہیں مؤثر انداز میں محفوظ اور بحال کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے سری لنکن وفد کو دیگر بدھ مقامات، اسلام آباد میوزیم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نئی قائم شدہ سٹیٹ آف دی آرٹ امیروسِو گیلری کے دورے کی دعوت بھی دی۔انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلہ پروگراموں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ باہمی دوستی اور تعاون کو نئی جہت دی جا سکے۔









