اسلام آباد ۔ 2 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ چھوٹے کاروبار سے ہی معیشت میں بہتری لائی جا سکتی ہے، پاکستان میں نوجوان نسل کی بڑی تعداد موجود ہے اور یہی ہمارا اصل اثاثہ ہیں، پی ٹی آئی کی سیاسی جدوجہد کا مقصد ہی نوجوانوں کی ترقی ہے، نوجوان نسل سے بہتر ان کے مسائل …
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر کا قائداعظم یونیورسٹی میں کامیاب جوان سٹارٹ اپ پاکستان پروگرام سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ چھوٹے کاروبار سے ہی معیشت میں بہتری لائی جا سکتی ہے، پاکستان میں نوجوان نسل کی بڑی تعداد موجود ہے اور یہی ہمارا اصل اثاثہ ہیں، پی ٹی آئی کی سیاسی جدوجہد کا مقصد ہی نوجوانوں کی ترقی ہے، نوجوان نسل سے بہتر ان کے مسائل کوئی اور نہیں بتا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی میں کامیاب جوان سٹارٹ اپ پاکستان پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کو اس لحاظ سے دیگر ممالک پر برتری حاصل ہے کہ ملکی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہے۔ نوجوان نسل کو مضبوط اور بااختیار بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہی نوجوان ہمارا اصل اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب جوان اسٹارٹ اپ پروگرام ملکی ترقی کا نچوڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت میں سب سے زیادہ روزگار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار روزگار پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گولڈ مین اینڈ ساکس نے دس ترقی کرنے والے ممالک میں پاکستان کو شامل کیا ہے جس کی بنیادی وجہ ہمارے نوجوان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان ترقی کے لئے ہمارا بڑا اثاثہ ہیں۔ ان کو بااختیار بنا کر ملکی ترقی میں ان کے کردار کو وسعت دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی جدوجہد کا مقصد ہی نوجوانوں کی ترقی ہے، اس اسٹارٹ اپ پروگرام کا مقصد وہ ماحول پیدا کرنا ہے جس میں نوجوانوں کی انٹرپرینیور شپ فروغ پائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کا فلسفہ ہے کہ بڑا سوچو، چھوٹے سے شروع کرو اور پھر اس کو وسیع کرو۔ انہوں نے کہا کہ یہ پائلٹ پراجیکٹ اچھا آئیڈیا ہے، اسے بعد میں دوسرے شہروں تک وسعت دی جائے گی۔ اسد عمر نے کہا کہ اگر 10 فیصد اسٹارٹ اپ بھی کامیاب ہو گئے تو روزگار کے دس لاکھ مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی ترقی سے متعلق تمام منصوبوں کی تشکیل اور ڈیزائن کے مراحل میں نوجوانوں کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے چلنے میں طلبہ کی رائے نہ ہونے کی وجہ سمجھ نہیں آتی، یونیورسٹی امور میں طلبہ کی رائے شامل ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی میں طلبہ تنظیموں کی رائے اور مشاورت ضروری ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نوجوانوں کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں اور اس پروگرام کے آغاز کا مقصد بھی یہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل کے حوالے سے نوجوان ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔








