وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز کا مستقل سمندری ماہی گیری کے انتظام، سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ذمہ دارانہ ٹونا کی کٹائی کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ
وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز کا مستقل سمندری ماہی گیری کے انتظام، سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ذمہ دارانہ ٹونا کی کٹائی کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری نے مستقل سمندری ماہی گیری کے انتظام، سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ذمہ دارانہ ٹونا کی کٹائی کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے ماہی گیری کے شعبے کو بین الاقوامی تحفظ کے معیاروں کے مطابق بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ورلڈ ٹیونا(tuna) ڈے پر اپنے بیان میں جنید چوہدری نے کہا کہ (Tuna) عالمی خوراک کی سلامتی، روزگار اور معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہےاور حکومتوں، صنعتوں اور صارفین کی جانب سے اجتماعی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2016 میں قائم کردہ عالمی ٹونا ڈے عالمی سطح پر زیادہ ماہی گیری کا مقابلہ کرنے، پائیدار طریقوں کو فروغ دینے اور آنے والی نسلوں کے لیے ٹونا کے ذخائر کو محفوظ بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
جنید چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے اپنے ماہی گیری کے شعبے کو بین الاقوامی تحفظ کے معیاروں کے مطابق بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے،پہلی بار پاکستان نے انڈین اوشن ٹونا کمیشن سے 25,000 میٹرک ٹن کا کوٹہ حاصل کیا ہے، جس میں 15,000 ٹن یلو فن ٹونا اور 10,000 ٹن سکپ جیک ٹونا شامل ہیں۔ اس تاریخی کامیابی سے تقریباً 200 ملین ڈالر کی برآمدات کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ سالانہ 45,000 ٹن سے زائد کیچ کے باوجود ایک بڑا حصہ غیر منظم طریقوں کی وجہ سے رسمی معیشت سے باہر رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نیشنل فشریز اینڈ ایکوی کلچر پالیسی کے نفاذ کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹ رہی ہے، جس کا مقصد ضوابط کو منظم کرنا، آمدنی بڑھانا اور بین الاقوامی موسمیاتی اور تحفظ کے عزم کو پورا کرنا ہے۔عالمی ماہی گیری گورننس میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارتِ سمندری امور کا ایک سینئر افسر انڈین اوشن ٹونا کمیشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس کا چیئرمین منتخب ہوا ہے، جو بین الاقوامی ٹونا مینجمنٹ میں ملک کی 28 سالہ مصروفیت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نقصان دہ ماہی گیری کے طریقوں جیسے گل نیٹنگ اور ٹرالنگ کو مرحلہ وار ختم کر رہا ہے اور ان کی جگہ منتخب لانگ لائننگ تکنیکوں سے بدل رہا ہے تاکہ بائی کیچ کم ہو اور سمندری ماحولیاتی نظام کی حفاظت ہو سکے۔ فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کی مدد سے مقامی ماہی گیر جدید آلات سے آراستہ کیے جا رہے ہیں تاکہ کیچ کے معیار اور قدر میں اضافہ ہو۔انہوں نے کہا کہ برآمداتی شعبے میں اصلاحات سے سرٹیفیکیشن کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ماہی گیری کے بندرگاہوں خصوصاً کورنگی میں انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن پاکستان کی برآمداتی صلاحیت کو یورپی ممالک کے لئے خاص طور پر مزید بڑھائے گی،پاکستان کا ٹونا شعبہ ایک اہم موڑ پر ہے، جہاں پائیدار کوٹہ، پالیسی اصلاحات اور مضبوط بین الاقوامی شراکت داری طویل مدتی معاشی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور زر مبادلہ میں اضافے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔









